قومی

Rajasthan Election: راجستھان میں بی جے پی کا راستہ آسان نہیں، الیکشن سے پہلے اس تصویر نے پھر دیا جھٹکا

Rajasthan Election: بی جے پی لیڈر وسندھرا راجے نے جمعہ کی رات (22 ستمبر 2023) جے پور میں راجستھان کانسٹی ٹیوشن کلب کے افتتاح کے بعد راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت سے ملاقات کی۔ راجے نے پروگرام کے دوران وزیر اعلیٰ کے ساتھ اسٹیج شیئر نہیں کیا، لیکن پروگرام کے بعد ان سے الگ ملاقات کی۔

گھنٹوں بعد، دونوں رہنماؤں کی ایک ساتھ ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس سے ملاقات کے سیاسی مضمرات کے بارے میں افواہیں پھیل گئیں۔ اس تصویر میں صرف وسندھرا راجے اور اشوک گہلوت کو دکھایا گیا تھا، تاہم راجستھان اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر سی پی جوشی اور قائد حزب اختلاف راجندر راٹھور بھی اس میں شامل تھے۔

شیئر کرنی پڑی اصل تصویر

سی ایم اشوک گہلوت کے ساتھ تصویر وائرل ہونے کے بعد وسندھرا راجے کے دفتر کو مجبور کیا گیا کہ وہ چیف منسٹر گہلوت کے علاوہ فریم میں سی پی جوشی اور راٹھورکے ساتھ اصل تصویر شیئر کرے۔

اس سال کے آخر میں ہونے ہیں انتخابات

200 سیٹوں والی راجستھان اسمبلی کے انتخابات اس سال کے آخر میں ہونے والے ہیں، جس میں بی جے پی کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ وہ گہلوت اور سچن پائلٹ کے درمیان جھگڑے کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ جبکہ کانگریس کرسی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

بی جے پی نے نہیں کیا ہے امیدواروں کا اعلان

بی جے پی نے ابھی تک ریاستی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ یہی نہیں اس نے ابھی تک اپنی حکمت عملی بھی نہیں بتائی۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق، پارٹی حکمران کانگریس کا مقابلہ کرنے کے لیے راجے، راٹھور، گجیندر سنگھ شیخاوت اور ستیش پونیا سمیت رہنماؤں کی مشترکہ قیادت پر اعتماد کر رہی ہے۔ ریاست میں پارٹی کی انتخابی مہم میں چاروں لیڈروں کو یکساں اہمیت دی جارہی ہے جس میں حال ہی میں ختم ہوئی پریورتن یاترا بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں- Ramesh Bidhuri Controversy Row: ‘پریشانی بدھوڑی نہیں ہے’ پارلیمنٹ میں متنازعہ تبصرہ کئے جانے پر ٹی ایم سی ایم پی مہوا موئترا نے بی جے پی پر اٹھائے سوال

بی جے پی کے اندر نہیں چل رہا ہے سب کچھ ٹھیک

تاہم بات یہ ہے کہ وسندھرا راجے ان دنوں پارٹی سے ناراض ہیں۔ جمعہ (22 ستمبر 2023) کو پریورتن یاترا کے آخری مرحلے میں راجے کی غیر موجودگی نے اس بحث کو مزید تقویت دی۔ دراصل، راجے پریورتن یاترا کے دوران پروگرام میں موجود نہیں تھیں جو ہڈوتی علاقے میں پہنچی تھی۔ ہڈوتی کے علاقے میں کوٹا، بوندی اور جھالاواڑ شامل ہیں۔ ایسے میں بی جے پی میں ان کے مستقبل کو لے کر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کوٹا کو بی جے پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، اور بی جے پی کی پریورتن یاترا کے مایوس کن انجام نے اشارہ دیا ہے کہ پارٹی کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔

-بھارت ایکسپریس

Mohd Sameer

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

2 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

3 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

4 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

4 hours ago