قومی

Rahul Gandhi’s big attack on RSS: ’سنگھ تمام اداروں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے‘—لوک سبھا میں آر ایس ایس پر راہل گاندھی کا بڑا حملہ

نئی دہلی:  پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منگل کو انتخابی اصلاحات پر بحث جاری تھی۔ اسی دوران قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے آر ایس ایس پر ملک کی تمام سرکاری اور آئینی اداروں پر قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ راہل گاندھی نے کہا: ”کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مہاتما گاندھی نے کھادی پر اتنا زور کیوں دیا؟ انہوں نے آزادی کی جدوجہد کھادی کے نظریے کے اردگرد کیوں لڑی؟ انہوں نے صرف کھادی ہی کیوں پہنی؟ یہ محض ایک کپڑا نہیں، بلکہ ہندوستان کے لوگوں کا احساس ہے۔“

’ہندوستان ایک مشترکہ تانے بانے کی طرح‘

راہل گاندھی نے آسام کے گمچھے سے لے کر کانچی پورم کی ساڑی تک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ایک کپڑے کے تانے بانے کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا: ”ہمارا ملک 150 کروڑ افراد پر مشتمل ہے اور ہر دھاگا ایک جیسا ہے۔ لیکن آر ایس ایس تمام اداروں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ 30 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کے سینے میں تین گولیاں مار کر ناتھورام گوڈسے نے ہمارے بابائے قوم کا قتل کر دیا۔“

’اہم عہدوں پر تقرری صرف ایک تعلق کی بنیاد پر‘

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یہ ایک تلخ سچ ہے، لیکن اسے کہنا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری میں قابلیت نہیں بلکہ آر ایس ایس سے وابستگی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کے اس بیان پر حکمراں جماعت کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ اس پر اسپیکر اوم برلا نے راہل گاندھی کو ہدایت دی کہ وہ بحث کے موضوع تک محدود رہیں اور کسی تنظیم کا نام نہ لیں۔ مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا: ”ہم قائد حزب اختلاف کو سننے کے لیے بیٹھے ہیں، لیکن اگر وہ موضوع سے ہٹ کر بات کریں گے تو ایوان کا وقت ضائع ہوگا۔“

احتجاج کے باوجود راہل گاندھی کا اصرار

حکومت کے اراکین کے احتجاج پر راہل گاندھی نے کہا: ”میں نے کچھ غلط نہیں کہا۔ تعلیمی اداروں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ وائس چانسلر کی تقرری ایک مخصوص تنظیم سے وابستگی کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ اداروں پر سی بی آئی اور ای ڈی کا کنٹرول حاصل کیا جا چکا ہے۔ یہاں تک کہ الیکشن کمیشن بھی اسی تنظیم کے کنٹرول میں ہے جو انتخابات کو کنٹرول کر رہی ہے۔“

’میرے پاس ثبوت موجود ہیں‘

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ان کے تمام الزامات کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ”2023 میں قانون بدل کر سی جے آئی کو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل سے خارج کردیا گیا۔ انتخابات سے قبل یہ بھی ضابطہ لایا گیا کہ کسی بھی الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ سی سی ٹی وی اور ڈیٹا سے متعلق قوانین بھی تبدیل کیے گئے۔“

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

9 hours ago