قومی

Rahul Gandhi Targets Central Government: سونم وانگچک کو اسپتال میں داخل کیے جانے پر راہل گاندھی کا مرکز پر حملہ، حکومت پر لگایا جھوٹ اور جبر کا الزام

نئی دہلی: سماجی کارکن سونم وانگچک کی طبیعت 20 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد بگڑنے پر دہلی پولیس نے انہیں اسپتال میں داخل کرایا۔ اس کے بعد لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس پر جھوٹ بولنے اور جبر کا راستہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔

راہل گاندھی کا حکومت پر سخت حملہ

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’چھاتروں کی گونج‘ ہیش ٹیگ کے ساتھ پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’’مرکزی حکومت کے دو بنیادی اصول ’جھوٹ‘ اور ’تشدد‘ ہیں۔ سونم وانگچک کو جنتر منتر سے اس وقت ہٹانا، جب وہ پُرامن بھوک ہڑتال پر تھے، سراسر غلط ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پرچے لیک ہونے کے واقعات، تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت اور طلبہ کی خودکشیاں بھارت کے مستقبل سے جڑے انتہائی سنگین مسائل ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا، ’’کوئی بھی طاقت بھارت کے طلبہ اور ان لوگوں کو، جو ان سے محبت کرتے ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں، ان مسائل کو اٹھانے سے نہیں روک سکتی۔‘‘

اپوزیشن کے دیگر لیڈران نے بھی مذمت کی

اس سے قبل کانگریس لیڈران پون کھیڑا سمیت متعدد اپوزیشن لیڈران، جن میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، این سی پی (شرد پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت شامل ہیں، نے بھی سونم وانگچک کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی۔

ممتا بنرجی: اختلافِ رائے کو خاموش نہیں کیا جا سکتا

ممتا بنرجی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’سونم وانگچک کی صحت اور خیریت کو لے کر شدید تشویش ہے۔ انہوں نے صرف بات چیت کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود ان کی اپیل کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ جمہوریت میں پُرامن اختلافِ رائے کا جواب مکالمے سے دیا جانا چاہیے، خاموشی سے نہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’سونم وانگچک کی آواز کو اسی طرح نظر انداز کیا گیا، جیسے ملک کے بے شمار نوجوانوں کی آوازوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔‘‘

پون کھیڑا، شرد پوار اور سنجے راوت کا ردِعمل

کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’ہمارا آئین اختلافِ رائے کا حق دیتا ہے، لیکن وزارتِ داخلہ اس حق کو ختم کرنے پر تُلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔‘‘ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا، ’’ہمیں اندازہ تھا کہ پانچ یا چھ دن کے اندر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا، اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ بڑھتے ہوئے احتجاج کے باوجود مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اسی لیے دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس تحریک کی حمایت میں آگے آئی ہیں۔‘‘

شیوسینا (ادھو گروپ) کے لیڈر سنجے راوت نے دہلی پولیس کی کارروائی کو کھلی آمریت قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ اقدام مہاراشٹر میں جاری ’رام رکشا‘ احتجاج سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ واضح رہے کہ نیٹ امتحان پرچہ لیک معاملے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

2 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

2 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

3 hours ago