پنجاب پولیس نے بدھ کے روز کسان رہنماؤں جگجیت سنگھ ڈلیوال اور سرون سنگھ پنڈھر کو موہالی میں حراست میں لے لیاہے۔ اس دوران کسانوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان اس وقت جھڑپ ہوئی جب کسان کھنوری اور شمبھو سرحدی پوائنٹس کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کسان ان دونوں جگہوں پر 13 فروری 2023 سے احتجاج کر رہے ہیں۔ معلومات کے مطابق شمبھو اور کھنوری دونوں مقامات پر تقریباً 3000 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔کھنوری سرحد پر 200 کسانوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جب کہ 300 کے قریب کسان شمبھو بارڈر پر موجود ہیں، جنہیں جلد ہی حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ کسانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد کھنوری سرحد اور ملحقہ سنگرور اور پٹیالہ اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔
-کسانوں کو حراست میں لینے کے بعد، زیادہ تعداد میں کسان سرحدوں پر پہنچنا شروع ہو گئے۔ کسان تنظیموں نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں کھنوری بارڈر پہنچیں۔ کسانوں نے پنجاب حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔پولیس نے کسانوں کے ذریعہ لگائے گئے عارضی اسٹیج سے پنکھے کو ہٹا دیا، جہاں وہ مختلف مطالبات کو لے کر دھرنے پر بیٹھے تھے۔کھنوری بارڈر پر کسانوں کا احتجاج پنجاب پولیس نے ہٹا دیا ہے۔ آج صبح سے ہی پنجاب پولیس سنگرور میں بڑی تعداد میں جمع تھی۔ آج چندی گڑھ میں مرکزی وزراء کے ساتھ کسانوں کی میٹنگ ہوئی۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھے لیڈر جگجیت سنگھ ڈلیوال سمیت کسان لیڈر میٹنگ کے لیے پہنچے تھے۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد پنجاب پولیس نے کسان رہنماؤں کو موہالی سے ہی حراست میں لے لیا۔ ڈی آئی جی پنجاب مندیپ سنگھ سدھو نے پہلے کسانوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ کسانوں کے نہ ماننے پر پولیس نے بڑی کارروائی کی۔
واضح رہے کہ چندی گڑھ میں کسان رہنماؤں اور مرکزی وفد کے درمیان ملاقات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ میٹنگ تین گھنٹے سے زیادہ جاری رہی، جس میں مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ کسانوں کے مفادات سب سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات مثبت اور تعمیری رہے اور اگلی ملاقات 4 مئی کو ہوگی۔ میٹنگ کے فوراً بعد جب کسان لیڈر چندی گڑھ سے موہالی پہنچے تو پولیس نے بھاری رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس دوران سرون سنگھ پنڈھر، جگجیت سنگھ ، ابھیمنیو کوہر، کاکا سنگھ کوٹرا اور منجیت سنگھ رائے کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے شمبھو اور کھنوری سرحدی مقامات پر بھی بھاری حفاظتی دستے تعینات کیے ۔ معلومات کے مطابق، حکومت نے شمبھو اور کھنوری سرحد کو خالی کرنے کی حکمت عملی بنائی، جس کے تحت یہ کارروائی کی گئی۔ یہ تمام رہنما کسانوں کے مطالبات کے لیے طویل عرصے سے لڑ رہے ہیں اور حکومت سے کم سے کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت سمیت دیگر مطالبات کو پورا کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…
ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…
گجرات کے کچھ میں واقع کھاوڑا رینیوایبل انرجی پارک کو ملا الگ پن کوڈ اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…