قومی

Ketan Agarwal Murder Case: کیتن اگروال قتل معاملے میں منصوبہ بندی کی ریہرسل والی جگہ پرپہنچی پونے پولیس، لوہا گڑھ قلعے پر سیاگوئل کے ساتھ جلد کرے گی کرائم سین کو ری-کریئیٹ

پونے: پونے دیہی پولیس جمعرات کی صبح کیتن اگروال قتل کیس کی ملزمہ سیا گوئل کو شہر کے للّا نگر علاقے میں واقع ایک کھلے میدان میں لے گئی، جہاں اس نے مبینہ طور پر شریک ملزم چیتن چودھری کے ساتھ کیتن اگروال کو لوہا گڑھ قلعے سے دھکا دینے کے منصوبے کی ریہرسل کی تھی۔ پولیس نے سیا گوئل کے گھر سے وہ کپڑے بھی برآمد کر لیے ہیں جو اس نے مبینہ طور پر واقعے کے روز پہن رکھے تھے۔

’پولیس نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا‘

ملزمہ کے والد پروین گوئل نے بتایا کہ پولیس آج ان کے گھر آئی تھی، تاہم اس نے ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی۔ انہوں نے کہا: ’’پولیس آج گھر آئی تھی، لیکن میری کسی سے ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ تقریباً 30 سے 45 منٹ تک گھر میں رہی اور اپنا کام کرکے چلی گئی۔ ڈاکٹروں نے مجھے آرام کا مشورہ دیا ہے، میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ میں اس معاملے پر کچھ کہنا نہیں چاہتا اور نہ ہی مجھ میں اس کی ہمت ہے۔ پولیس نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا۔‘‘

چیتن چودھری کے ساتھ بھی جائے وقوع کی ازسرنو تشکیل

اس سے قبل بدھ کے روز پونے پولیس نے شریک ملزم چیتن چودھری کو بھی لوہا گڑھ قلعے پر لے جا کر جائے وقوع کی ازسرنو تشکیل (Crime Scene Reconstruction) کی تھی۔ پولیس نے اس مقصد کے لیے ایک ایسا ڈمی استعمال کیا جس کا وزن مقتول کیتن اگروال کے وزن کے برابر رکھا گیا تھا، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ مبینہ طور پر واقعہ کس طرح پیش آیا۔ پونے پولیس کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ شبھم کمار نے بتایا کہ چیتن چودھری نے پولیس کو اس روز پیش آنے والے واقعات کی ترتیب سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا: ’’ہم چیتن چودھری کو جائے وقوع پر لے گئے، جہاں اس نے ہمیں اس دن کے واقعات کی تفصیل بتائی۔ تحقیقات جاری ہیں۔ استعمال کیا گیا ڈمی مقتول کیتن اگروال کے وزن کے مطابق تیار کیا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ دوسری ملزمہ سیا گوئل کے ساتھ بھی جائے وقوع کی ازسرنو تشکیل کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔

منگنی سے ناخوشی قتل کی ممکنہ وجہ

واضح رہے کہ 18 جون کو لوہا گڑھ قلعے کے قریب کیتن اگروال کی گہرائی میں گرنے سے موت ہوگئی تھی، جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ لوناؤلا پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سیا گوئل، جس کی منگنی کیتن اگروال سے ہوئی تھی، اس مرحلے پر شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور مبینہ طور پر خاندان کے دباؤ میں تھی۔ اس واقعے کے بعد مہاراشٹر حکومت نے مقدمے کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالت قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے سینئر وکیل اور راجیہ سبھا کے رکن اجول نکم کو اس مقدمے کا خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا ہے۔ سیا گوئل اور اس کے دوست چیتن چودھری کو 23 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں اس وقت 3 جولائی تک پولیس ریمانڈ پر ہیں جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

20 minutes ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

2 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

2 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

3 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

3 hours ago