تحریر: کریتیکا شرما
جدّت ہمیں ہر جگہ نظر آتی ہے، لیکن اختراع کی بقا اس کے تحفظ میں مضمر ہے۔ علمی ملکیت کے حقوق (آئی پی آر )جدّت کی حفاظت کرتے ہیں،خواہ وہ موبائل فون کے پرزے ہوں یا صارفین کی مصنوعات پر لوگو۔ یہ ذہنی تخلیقات کے لیے قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں، تاکہ موجد اپنے خیالاتپر کی گئی محنت اور سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس یقین دہانی کے بغیراختراع کا فروغ ممکن نہیں ہے۔
امریکہ اور ہندوستان طویل عرصے سے اس بات پر تعاون کرتے آئے ہیں کہ ان کے موجد ایک دوسرے کے بازاروں میں داخل ہو سکیں اور اپنے حقوق کو علمی ملکیت کے قوانین کے ذریعے محفوظ کر سکیں ۔ اس کی ایک مثال ’ ٹرسٹ‘ پہل ہے جس کا آغاز گذشتہ برس کے اوائل میں ہوا ۔ یہ شراکت داری اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجی، جیسے سیمی کنڈکٹرس اور مصنوعی ذہانت، کے اشتراک پر مرکوز ہےمگر اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک سلامتی کے سخت معیار اور علمی ملکیت کے اقدار کی پابندی کریں۔
بازار کھولنے کے لیے مضبوط تحفظ تو درکار ہے ہی ، غیر ملکی قوانین میں راستہ تلاش کرنے کے لیے پیشہ ورانہ مدد بھی ضروری ہوتی ہے۔ ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں واقع یو ایس پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس (یو ایس پی ٹی او ) اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ امریکی موجد مواقع تلاش کریں اورہندوستانی قانونی ڈھانچےکے اندر کام کرنے کی خاطر راہنمائی حاصل کر سکیں۔
علمی ملکیت کے حقوق اور اختراع
آئی پی آر کی ترقی اور اس کے نفاذ کی بدولت امریکہ اختراع کے میدان میں عالمی قائدکی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکی محققین اور کاروباری پیشہ ور افراد نے مائیکرو چِپ، جی پی ایس اور طیّاروں جیسی اختراعات میںنمایاں پیش قدمی کی ہے ۔یہ اختراعی تاریخ ایک قانونی علمی ملکیت کے نظام کے ذریعے قائم ہے جو اصل خیالات کو محفوظ اثاثے کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ یہ نظام کمپنیوں کو غیر مجاز نقل سے تحفظ دیتا ہے اور انہیںبازار میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
امریکی پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک دفتر میں ڈپٹی چیف پالیسی افسر برائے تعلیم اور بین الاقوامی تعلقات ڈومینِک کیٹنگ وضاحت کرتے ہیں ’’ ایک پیش گوئی شدہ اور شفاف علمی ملکیت کا نظام خاص طور پر کمپنیوں کو اپنے حقوق کی حفاظت اور نفاذ کرنے کی اجازت دیتا ہے، تاکہ وہ تحقیق، ترقی اور مصنوعات کی بازار میں پیشکش میں کی گئی سرمایہ کاری سے فیضیاب ہو سکیں۔ ‘‘
انفرادی کمپنیوں کے لیےیہ تحفظ پوری معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔خیالات کے فروغ کے لیے محفوظ ماحول فراہم کر کے، علمی ملکیت کا نظام نجی جدت کو اقتصادی نمو کا ایک اہم محرک بنا دیتا ہے۔
کیٹنگ بتاتے ہیں ’’ ۲۰۱۹ میں امریکی پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک دفتر کی جانب سےجاری امریکی معیشت میں علمی ملکیت سے متعلق ایک رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا کہ دانشورانہ ملکیت پر مبنی صنعتوں نے ۴۷اعشاریہ ۲ ملین روزگارفراہم کرکے امریکی معیشت میں ۷اعشاریہ ۸ ٹریلین ڈالر کا حصہ ڈالا۔ ہم نے ہندوستان اور دیگر ملکوں میں بھی علمی ملکیت کے تحفظ کے مثبت اثرات کا مشاہدہ کیا ہے۔‘‘
تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ علمی ملکیت پر انحصار کرنے والی صنعتوں میں کارکن عام طور پر زیادہ اجرت حاصل کرتے ہیں، خاص طور پر وہ شعبے جو کاپی رائٹ یایوٹیلٹی پیٹنٹ (عملی پیٹنٹ وہ حق ہے جو کسی نئی چیزیا ایجاد کو بنانے اور استعمال کرنےکو قانونی تحفظ دیتا ہے)پر مبنی ہیں۔ ایسے ملازمین کا بڑے اداروں میں کام کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔ ان کے پاس بیچلر یا ماسٹر ڈگری ہوتی ہے اور وہ آجر کی جانب سے فراہم کردہ صحت بیمہ اور ریٹائرمنٹ منصو بوں میں شامل ہوتے ہیں ۔
امریکہ ۔ ہند علمی ملکیت کی شراکت
ان نمایاں فوائد کو دیکھتے ہوئے، امریکہ اورہندوستان اس معاملے میں زیادہ ہم خیال ہوتے جارہے ہیں کہ علمی ملکیت پر انحصار کرنےو الے شعبوں کو مستقبل کی ترقی کے محرک کے طور پر فروغ دیا جائے اور محفوظ بنایا جائے۔
مثال کے طور پرہندوستان میں پیٹنٹ کی درخواستیں 2023 میں 15.7 فی صد بڑھیں، جن میں سے نصف سے زیادہ مقامی باشندوں نے دائر کیں،جو ایک مضبوط آئی پی فریم ورک کی حمایت میں جدت کی بڑھتی ہوئی لہر کا عکّاس ہے۔
کیٹنگ کے مطابق ہندوستان میں علمی ملکیت کے حوالے سے شعور بالیدہ ہوا ہے جو حکومت ہند کی کوششوں اور امریکہ جیسے اہم تجارتی شراکت داروں کے تعاون کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ وہ بتاتے ہیں ’’ امریکہ اور ہندوستان میں زیادہ جدّت، تخلیقی صلاحیت، اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی خواہش مشترک ہے جسے علمی ملکیت کے ذریعے فروغ دیا جاسکتا ہے۔ امریکہ اور ہندوستان نے اپنی علمی ملکیت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے چیلنجوں اور بہترین طریقوں پر دو طرفہ بات چیت بھی کی ہے۔‘‘
دونوں ملک علمی ملکیت کے معاملات میں اپنی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر کیٹنگ بتاتے ہیں ’’ ہندوستانی علمی ملکیت دفتر نے امریکی پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک دفتر کے پیٹنٹ کی جانچ کرنے والے عملہ کو روایتی علمی ڈیجیٹل لائبریری کے استعمال کی تربیت دی ہے ۔اور امریکی پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک دفتر نے اس کے بدلے ہندوستانی پیٹنٹ کی جانچ کرنے والوں کو بایو ٹیک اختراع اور غیر روایتی ٹریڈ مارک کی جانچ کرنے کی تربیت دی ہے۔‘‘
صلاحیت سازی سے آگے بڑھ کر، دونوں ممالک عوام کو علمی ملکیت کے معاملات کے بارے میں تعلیم دینے میں بھی تعاون کرتے ہیں۔کیٹنگ بتاتے ہیں ’’طویل مدتی طور پر دیکھیں تو امریکہ اور ہندوستان دونوں ملک آئی پی تحفظات سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ایسایہ ایک دوسرے کے بازاروں میں مصنوعات کو تحفظ دے کر اور خدمات کو بہم پہنچا کر کرتے ہیں ۔محفوظ اور جدید مصنوعات کے لیے بڑا بازار عموماً زیادہ سرمایہ کاری اور زیادہ اختراعات کا سبب بنتا ہے۔‘‘
معیارات کو ہم آہنگ کرتے ہوئے اور موجدوں کے حقوق کو محفوظ بنا کر، دونوں ممالک قیمتی اور معیاری صنعتوں کو بڑھانے اور جدت کو خوشحالی کے لیے ایک قابل اعتماد محرک بنانےکے لیے کوشاں ہیں۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
——————————
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…