انٹرٹینمنٹ

Sandhya Theatre Stampede Case: سندھیا تھیٹر بھگدڑ معاملہ، اللو ارجن کو سمن جاری، 22 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

حیدرآباد: سندھیا تھیٹر بھگدڑ معاملے میں نام پلی فوجداری عدالت نے معروف تیلگو فلم اداکار اللو ارجن کو سمن جاری کرتے ہوئے 22 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

کیسے پیش آیا بھگدڑ کا واقعہ؟

یہ واقعہ 4 دسمبر 2024 کو پیش آیا تھا، جب فلم ’’پشپا 2: دی رول‘‘ کے پریمیئر کے موقع پر حیدرآباد کے سندھیا تھیٹر میں شائقین کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی۔ اسی دوران اچانک بھگدڑ جیسی صورت حال پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک جبکہ ان کا بیٹا شدید زخمی ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد ریاست بھر میں ہلچل مچ گئی تھی اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

معاملے میں23 افراد بنے ملزم

اس معاملے میں مجموعی طور پر 23 افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جن میں اللو ارجن کو گیارہویں ملزم کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے اب تک 19 ملزمان کو پیشی کے لیے سمن جاری کیے جا چکے ہیں۔ پولیس کی تحقیقات میں تھیٹر انتظامیہ سے وابستہ پہلے دس افراد کو ملزم بنایا گیا، جبکہ اداکار کی سکیورٹی پر مامور آٹھ باؤنسروں کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ تمام ملزمان کی پیشی کے بعد ہی مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا آغاز کیا جائے گا۔

حادثے میں خاتون ہلاک، بیٹا زخمی

4 دسمبر 2024 کو اللو ارجن فلم کے پریمیئر شو میں شرکت کے لیے سندھیا تھیٹر پہنچے تھے۔ ان کی آمد کی خبر پھیلتے ہی تھیٹر کے اندر اور باہر شائقین کا ہجوم جمع ہو گیا۔ بھیڑ کو قابو میں کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن صورت حال بگڑتی چلی گئی اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس دوران ایم۔ ریوتی نامی خاتون ہلاک ہو گئیں، جبکہ ان کا بیٹا شدید زخمی ہو گیا۔

پولیس نے سنگین لگائیں دفعات

پولیس نے اس معاملے میں غیر ارادی قتل سمیت کئی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ بھیڑ پر قابو پانے اور حفاظتی انتظامات میں غفلت برتی گئی، جس کے باعث یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا اور مختلف سطحوں پر ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔

اللو ارجن کی گرفتاری اور ضمانت

واقعے کے بعد 13 دسمبر 2024 کو اللو ارجن کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں نام پلی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں 14 روزہ عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ حالانکہ، اسی روز ان کے وکلا نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جہاں انہیں عبوری ضمانت مل گئی۔ اگلے روز انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا، جبکہ بعد میں باقاعدہ ضمانت بھی منظور کر لی گئی۔

تین گھنٹے تک کی گئی پوچھ گچھ

تحقیقات کے دوران 24 دسمبر کو پولیس نے اللو ارجن سے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی تھی۔ یہ پوچھ گچھ نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ اور پولیس کی جانب سے تیار کردہ ویڈیوز کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ پولیس اس معاملے میں تمام 23 ملزمان کے خلاف فرد جرم عدالت میں پیش کر چکی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو ایک جدید زبان ہے، اے آئی سے مستقبل مزید مضبوط ہوگا، بزمِ صحافت میں بولے پروفیسر شاہد صدیقی

پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…

51 minutes ago

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

1 hour ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

2 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

2 hours ago