لکھنؤ یونیورسٹی میں آج ایک اہم انتظامی تبدیلی دیکھنے کو ملی، جب وائس چانسلر پروفیسر آلوک کمار رائے نے باضابطہ طور پر اپنا عہدہ پرو وائس چانسلر پروفیسر منوکا کھنہ کے سپرد کر دیا۔ پروفیسر رائے نے یونیورسٹی کی قیادت تقریباً پانچ سال اور سات ماہ (67 ماہ) تک کی اور اس دوران انہوں نے یونیورسٹی میں کئی تعلیمی اور انتظامی اصلاحات متعارف کرائیں۔
پروفیسر آلوک کمار رائے کا اصلاحات پر مبنی دور
پروفیسر رائے کے دور کو یونیورسٹی میں تعلیمی ترقی، تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور صنعتوں سے اشتراکات کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنے دور میں متعدد نئے کورسز کا آغاز کیا، ڈیجیٹل اصلاحات نافذ کیں، اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اقدامات کیے۔ شفاف اور جوابدہ انتظامیہ ان کے دور کا خاص پہلو رہا۔
پروفیسر منوکا کھنہ کی بطور قائم مقام وائس چانسلر تقرری
پروفیسر منوکا کھنہ، جو اب قائم مقام وائس چانسلر کی ذمہ داری سنبھال رہی ہیں، تعلیمی نظم و نسق اور تدریسی میدان میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ نصاب کی ترقی اور طلبہ مرکوز اقدامات کے لیے جانی جاتی ہیں۔ توقع ہے کہ وہ اپنے وژن کے مطابق یونیورسٹی کی ترقی کی راہ ہموار کریں گی۔
ہموار منتقلی، اساتذہ و منتظمین کی موجودگی میں تقریب
یہ منتقلی یونیورسٹی کے انتظامی دفتر میں منعقد ایک سادہ مگر باوقار تقریب میں عمل میں آئی۔ اس موقع پر پروفیسر آلوک کمار رائے نے اپنے الوداعی کلمات میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کا شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی کی ترقی میں ان کے تعاون کو سراہا۔ پروفیسر کھنہ نے اپنے خطاب میں پروفیسر رائے کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یونیورسٹی کمیونٹی کو ہموار منتقلی کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے، تحقیق کے شعبے کو مزید بہتر بنانے، اور طلبہ کو سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
مستقبل کی ترجیحات
پروفیسر کھنہ کی قیادت میں یونیورسٹی نصاب میں جدت، تعلیمی ٹیکنالوجی کا انضمام اور رابطہ کاری پروگراموں کی وسعت کی طرف گامزن ہوگی۔ قومی و بین الاقوامی اداروں سے اشتراکات کے فروغ پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ یونیورسٹی کی ساکھ اور رینکنگ میں مزید بہتری آئے۔ پروفیسر آلوک کمار رائے کے 67 ماہ کے دور کو ایک اصلاحاتی اور ترقیاتی مرحلہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ان کے ذریعہ متعارف کردہ ڈیجیٹل گورننس اور تحقیقی فنڈنگ کو ترجیح دینے جیسے اقدامات نے آنے والی قیادت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
یونیورسٹی کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم
اب پروفیسر منوکا کھنہ کی قیادت میں، علمی برادری ان سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اس میراث کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے نئے نظریات کے ساتھ یونیورسٹی کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گی۔ یہ تبدیلی نہ صرف لکھنؤ یونیورسٹی کے لیے اہم سنگ میل ہے بلکہ اترپردیش کی اعلیٰ تعلیمی تاریخ میں قیادت کے تسلسل کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…