قومی

CJI Suryakant remark controversy: جوابدہی مانگنا جرم نہیں، پریانکا چترویدی نے سی جے آئی سوریہ کانت کے کاکروچ والے بیان پر اٹھائے سوال

نئی دہلی :سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں اور کچھ کارکنوں کا موازنہ ’’کاکروچ‘‘ اور ’’پیراسائٹس‘‘ سے کیے جانے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کی لیڈراور راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی نے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عدلیہ کی تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت پر سوال اٹھائے ہیں۔پریانکا چترویدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ تین سال سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود ایک ایسے معاملے پر فیصلہ نہیں آیا ،جس کے آئینی اثرات ہیں اور جو جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے معاملے پر عوام کی ناراضگی یا تنقید ظاہر کرنا غلط ہے؟

انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کو ’’کاکروچ‘‘ اور ’’پیراسائٹس‘‘ کہنا اس بات کی علامت ہے کہ ہماری عدلیہ براہ راست تنقید کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ پریانکا کے مطابق یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔یہ پورا تنازع ایک عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ سپریم کورٹ کے وکیل سنجے دوبے نے توہین عدالت سے متعلق ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ دہلی ہائی کورٹ سینئر ایڈووکیٹ کا درجہ دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے طے کردہ رہنما اصولوں کو نافذ کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے جمعہ کے روز کی۔ سماعت کے دوران بنچ نے درخواست گزار کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے سخت لہجے میں گفتگو کی اور اسی دوران متنازع تبصرہ سامنے آیا۔

بنچ نے کہا، ’’کچھ نوجوان کاکروچ کی طرح ہیں، جنہیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پیشے میں جگہ۔ ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہو جاتے ہیں، کچھ آر ٹی آئی کارکن یا دیگر قسم کے ایکٹیوسٹ بن جاتے ہیں اور پھر ہر کسی پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔‘‘چیف جسٹس کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کئی افراد نے اس تبصرے کو نامناسب قرار دیا، جبکہ کچھ لوگوں نے عدلیہ کے وقار اور عدالت میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ضرورت کی حمایت کی۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان نے ایک بار پھر عدلیہ میں شفافیت، تنقید کی گنجائش اور عوامی جوابدہی جیسے موضوعات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دوسری جانب عدالتی حلقوں کا ماننا ہے کہ عدالتیں اپنے وقار اور عدالتی نظام کے تحفظ کے لیے سخت رویہ اختیار کرتی ہیں، لیکن عوامی شخصیات کے بیانات ہمیشہ بحث کا سبب بن جاتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

5 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

7 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

7 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

8 hours ago