قومی

”پہلے بابری مسجد اوراب بھوج شالہ…“ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پراسدالدین اویسی نے اٹھایا سوال، کہہ دی یہ بڑی بات

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے مدھیہ پردیش کے دھارمیں بھوج شالہ تنازعہ پرہائی کورٹ کے فیصلے پربرہمی کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہندوستان کی آئینی اقدارسے مطابقت نہیں رکھتا اوراس کا موازنہ بابری مسجد-رام مندرتنازعہ کے فیصلے سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالت کا فیصلہ ایک مذہب کوترجیح دیتا ہے جبکہ دوسری کمیونٹی کے عبادت کے حقوق کومجروح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے مستقبل میں کئی دیگرمذہبی مقامات کے تنازعات میں الجھنے کی راہ ہموارکرسکتے ہیں۔
اسدالدین اویسی نے حیدرآباد میں جمعہ کے روزمنعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا، “یہ فیصلہ آئینی اقدارسے متصادم ہے۔ بابری مسجد-رام مندرتنازعہ کے فیصلے نے ایک مذہب کوبالادستی دی ہے جبکہ دوسرے مذہب کی عبادت کے حقوق کومؤثرطریقے سے مجروح کیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس فیصلے نے ایک نئی راہ کھول دی ہے۔ کل کوئی بھی عبادت گاہوں کی مذہبی آزادی کوچیلنج کرنے کے لئے آگے آسکتا ہے۔”

ورشپ ایکٹ کا مذاق بناکر رکھ دیا: اویسی

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد معاملے میں پلیسیزآف ورشپ ایکٹ کوآئین کے بیسک اسٹرکچرسے جوڑا تھا، لیکن اب اسی اصول کونظراندازکیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ کوپوری طرح مذاق بناکررکھ دیا گیا ہے۔ اگراسی طرح کے فیصلے آتے رہے توکل کوئی بھی کسی بھی مذہبی مقام کے تقدس کوچیلنج دینے لگے گا۔

یہ فیصلہ بالکل بابری مسجد جیسا: اویسی

بابری مسجد معاملے سے سیدھا تعلق بتاتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے کہا کہ یہ فیصلہ بالکل بابری مسجد جیسا نکلا ہے۔ بابری مسجد معاملے میں عدالت نے کہا تھا کہ مسلمانوں کا اس جگہ کوئی قبضہ نہیں تھا، لیکن اس معاملے میں آج تک میرا اس جگہ پرپورا قبضہ رہا ہے۔

آستھا کی بنیاد پرفیصلہ سنایا گیا: اویسی

اے آئی ایم آئی ایم کے صدراویسی نے دعویٰ کیا کہ بابری مسجد معاملے کی طرح یہاں بھی آستھا (عقیدت) کی بنیاد پرفیصلہ سنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی وارننگ دی تھی کہ بابری مسجد پرآیا فیصلہ مستقبل میں کئی نئے تنازعہ کو جنم دے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ بابری مسجد-رام مندرتنازعہ سے متعلق فیصلہ ناقص تھا، جوپوری طرح سے آستھا کی بنیاد پردیا گیا تھا۔ میں نے اس وقت خبردارکیا تھا کہ یہ فیصلہ اسی طرح کے کئی مسائل پیدا ہونے کی راہ ہموارکرے گا۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے مجھے خاموش رہنے کا مشورہ دیا۔ اس وقت خاموش رہنے کی اپیل کرنے والوں کو میں مخاطب کرکے کہنا چاہتا ہوں کہ آج جو ہورہا ہے، اسے دیکھئے۔ جس فیصلے کی میں نے مثال پیش  کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ یہ اس طرح کے کئی حادثات کے لئے راستے کھول دے گا، اب اسی کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جہاں دی گئی راحت بالکل اسی طرح ہے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Home Secretary Unconditional Apology: کیا مرکزی داخلہ سکریٹری نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی؟ جانیے کیا ہے قانونی ضابطہ

توہینِ عدالت کے نوٹس کے جواب میں حلف نامے میں معافی کے ذکر سے متعلق…

58 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: کھیلو انڈیا اور اسپورٹس فیڈریشنز کو مضبوط بنانے کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ مختص: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں ایشین گیمز 2026 کے بھارتی…

2 hours ago