تحریر: خالد مصطفیٰ
ہندوستان ایک عظیم جمہوری ملک ہے جہاں آئین نے ہر شہری کو برابری، انصاف اور مواقع کی یکساں فراہمی کی ضمانت دی ہے۔ مگر جب ہم زمینی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں تو کئی ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جو اس نظریے کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم اور حساس مسئلہ سیاستدانوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو دی جانے والی پنشن اور دیگر مراعات کا ہے، جو نہ صرف مالی بوجھ بنتی جا رہی ہیں بلکہ عوامی احساسات کو بھی مجروح کر رہی ہیں۔
دنیا کے کئی ممالک میں اس موضوع پر بحث جاری ہے، لیکن حال ہی میں سری لنکا نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ سری لنکا کی حکومت نے ارکانِ پارلیمنٹ کی پنشن اسکیم کو مکمل طور پر ختم کر دیا، یہاں تک کہ سابق ارکان کو بھی اس سہولت سے محروم کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ ایک شدید معاشی بحران اور عوامی دباؤ کے بعد کیا گیا، اور اس نے ایک مضبوط پیغام دیا کہ قیادت کو عوام کے ساتھ یکساں مشکلات کا سامنا کرنا چاہیے، نہ کہ خصوصی مراعات کے سائے میں زندگی گزارنی چاہیے۔
اس کے برعکس، ہندوستان میں ارکانِ پارلیمنٹ (MPs)، ارکانِ اسمبلی (MLAs)، وزراء، صدر، نائب صدر اور وزیر اعظم جیسے اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کئی طرح کی مراعات حاصل رہتی ہیں۔ ان میں سرکاری بنگلے، قیمتی گاڑیاں، مفت بجلی، پانی، ٹیلی فون، سیکورٹی اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں مستقل پنشن بھی دی جاتی ہے، جو کئی معاملات میں لاکھوں روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی سیاستدان صرف ایک بار بھی الیکشن جیت جائے تو وہ اس پنشن کا حقدار بن جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ نظام واقعی منصفانہ ہے؟ ایک عام ہندوستانی شہری اپنی پوری زندگی محنت کرتا ہے، کئی دہائیوں تک نوکری کرتا ہے، تب جا کر کہیں اسے پنشن نصیب ہوتی ہے، وہ بھی محدود مقدار میں۔ دوسری طرف ایک سیاستدان مختصر مدت کی خدمت کے بعد زندگی بھر مراعات حاصل کرتا ہے۔ یہ فرق صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی سطح پر بھی ایک بڑی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر ہم فوج کے جوانوں کی بات کریں، خاص طور پر “اگنی ویر” اسکیم کے تحت خدمات انجام دینے والے نوجوانوں کی، تو صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ملک کی سرحدوں پر اپنی جان خطرے میں ڈال کر قوم کی حفاظت کرتے ہیں، لیکن چار سال کی سروس کے بعد انہیں کوئی مستقل پنشن نہیں دی جاتی۔ یہ تضاد نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ہمارے نظام میں ترجیحات کس قدر غیر متوازن ہیں۔
ملک کا خزانہ عوام کے ٹیکس سے چلتا ہے، اور ہر شہری اپنی کمائی کا ایک حصہ حکومت کو دیتا ہے تاکہ ملک کی ترقی اور فلاح کے کاموں میں استعمال ہو سکے۔ مگر جب یہی پیسہ مخصوص طبقے کی آسائشوں پر خرچ ہونے لگے تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ اربوں اور کھربوں روپے سالانہ ان مراعات پر خرچ کیے جاتے ہیں، جو اگر عوامی فلاح کے منصوبوں پر لگائے جائیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ان بااثر شخصیات کا انتقال ہوتا ہے تو ان کی آخری رسومات پر بھی سرکاری خزانے سے بھاری اخراجات کیے جاتے ہیں۔ قیمتی چندن کی لکڑیوں کا استعمال، سرکاری اعزازات اور دیگر اخراجات ایک عام شہری کے لیے ناقابلِ تصور ہیں۔ ایک طرف عام انسان بنیادی سہولیات کے لیے ترستا ہے، اور دوسری طرف اشرافیہ کے لیے ہر طرح کی سہولت میسر ہے۔
یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس نظام پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں قیادت نے مشکل مگر ضروری فیصلہ لیا۔ ہندوستان میں بھی اس موضوع پر بحث کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر کھل کر گفتگو کریں اور ایک ایسا قانون بنائیں جو انصاف، مساوات اور شفافیت کے اصولوں پر مبنی ہو۔
ایک ممکنہ حل یہ ہو سکتا ہے کہ پنشن کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے عام سرکاری ملازمین کے اصولوں کے مطابق کر دیا جائے، یعنی مدتِ ملازمت، کارکردگی اور دیگر عوامل کی بنیاد پر محدود کیا جائے۔ یا پھر صرف اسی مدت تک مراعات دی جائیں جب تک کوئی شخص عہدے پر فائز ہو، اس کے بعد نہیں۔
جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھیں، نہ کہ مالک۔ اگر ایک عام انسان اپنی محنت سے کماتا ہے اور اپنے بل بوتے پر زندگی گزارتا ہے تو سیاستدانوں کو بھی اسی اصول کو اپنانا چاہیے۔ ملک کا خزانہ عوام کی امانت ہے، اور اس کا استعمال بھی عوام کی فلاح کے لیے ہونا چاہیے۔
آج عوام بیدار ہو چکی ہے۔ وہ سوال کر رہی ہے، جواب مانگ رہی ہے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ سوشل میڈیا، اخبارات اور عوامی جلسوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عوامی احساس کو سمجھے اور اس کے مطابق فیصلے کرے۔
اگر ہم واقعی ایک مضبوط، خود کفیل اور منصفانہ ہندوستان بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہوگا اور ایک ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جو ہر شہری کے لیے برابر ہو۔ یہی وقت ہے کہ ہم سری لنکا جیسے اقدامات سے سبق سیکھیں اور اپنے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
اختتامی تجزیہ :- آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پنشن کا مسئلہ صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی اور جمہوری اقدار کا بھی ہے۔ اگر اس پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھتے جائیں گے۔ لیکن اگر بروقت اصلاحات کی گئیں تو یہ ایک نئے، بہتر اور منصفانہ ہندوستان کی بنیاد بن سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…
صدر دروپدی مرمو نے کیوڈیا میں منعقدہ تقریب میں فلمی شخصیات کو قومی اعزازات سے…