نئی دہلی: مرکزی وزیر محنت و روزگار منسکھ مانڈویہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی 19 جون کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقد ہونے والی تقریب میں پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا (پی ایم-وی بی آر وائی) کے تحت مستحقین کو ترغیبی رقم جاری کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے 15 لاکھ سے زائد مستفیدین کے کھاتوں میں مجموعی طور پر 2,400 کروڑ روپے کی ترغیبی رقم منتقل کی جائے گی۔
نوجوان ملازمین اور آجروں سے وزیراعظم کی گفتگو
منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ ترغیبی رقم جاری کرنے سے قبل وزیراعظم نریندر مودی اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے چند نوجوان پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والے افراد اور آجروں سے براہِ راست گفتگو بھی کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وگیان بھون میں ہونے والی مرکزی تقریب کی کارروائی ملک بھر کے 200 صنعتی مراکز میں منعقد ہونے والے علاقائی پروگراموں میں براہِ راست نشر کی جائے گی۔
ملک بھر میں بیک وقت علاقائی تقریبات
مرکزی وزیر نے کہا کہ ان صنعتی مراکز میں گورنروں، وزرائے اعلیٰ، مرکزی وزراء، نائب وزرائے اعلیٰ، ریاستی وزرائے محنت، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، میئروں اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی میں علاقائی تقریبات منعقد ہوں گی۔ ان پروگراموں کے دوران آجروں اور ملازمین کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ نئی تقرری حاصل کرنے والے ملازمین میں تقرری نامے بھی تقسیم کیے جائیں گے۔
اسکیم کا بجٹ اور روزگار کا ہدف
منسکھ مانڈویہ نے بتایا کہ پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا کا مجموعی بجٹ 99 ہزار 446 کروڑ روپے ہے، جبکہ اس اسکیم کے تحت دو برس میں 3.5 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو 15 ہزار روپے تک کی ترغیبی رقم دی جاتی ہے، جبکہ نئے ملازمین کی بھرتی کرنے والے آجروں کو فی نئے ملازم 3 ہزار روپے ماہانہ تک کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں روزگار کے فروغ کے لیے یہ سہولت چار سال تک جاری رکھنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
خواتین اور چھوٹے اداروں کو بھی فائدہ
مرکزی وزیر کے مطابق اگست 2025 سے اب تک اس اسکیم کے ذریعے 63 لاکھ سے زائد پہلی مرتبہ ملازمت حاصل کرنے والے افراد کو باقاعدہ روزگار کے دائرے میں لایا جا چکا ہے، جن میں تقریباً 30 فیصد خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکیم کے پارٹ-بی کے تحت ترغیبی رقم حاصل کرنے والے 80 فیصد سے زیادہ ادارے ایسے چھوٹے کاروباری ادارے ہیں جن میں 25 سے کم کارکن کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اسکیم چھوٹے اور ابھرتے ہوئے کاروباری اداروں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے، جو بھارتی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…
مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…
بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…
اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…
سری لنکا کی ناقص بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ…