نئی دہلی : امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے پر کانگریس پارٹی نے پہلی بار اپنا ردعمل دیتے ہوئے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے میں پاکستان کا نمایاں کردار بھارت کی سفارتی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مسلسل قربت اختیار کرنا ملک کے مفادات کے خلاف ہے۔جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا 14 نکاتی ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ (Islamabad Memorandum of Understanding) باضابطہ طور پر سامنے آ چکا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کو ’’اسلام آباد ایم او یو‘‘ کا نام دیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی علاقائی اور عالمی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس لیڈرنے کہا کہ یہی پاکستان وہ ملک ہے، جسے 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے عالمی سطح پر تقریباً تنہا کر دیا تھا، لیکن آج وہ مغربی ایشیا کی سفارت کاری اور سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کرتا نظر آ رہا ہے۔
ان کے مطابق یہ صورتحال مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سمت اور انداز دونوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔جے رام رمیش نے خبردار کیا کہ پاکستان اب مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست اور سکیورٹی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ بنتا جا رہا ہے، جس کے بھارت کے لیے طویل مدتی اور دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ معاہدہ اپنی روح اور متن کے مطابق نافذ ہوتا ہے تو اسے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے، اگرچہ مستقبل میں اس کے ’’غلط فہمی کے معاہدے‘‘ میں تبدیل ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 60 دن اس معاہدے کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔کانگریس کے سینئر لیڈرنے ایران کو اس معاہدے کا بڑا فائدہ اٹھانے والا فریق قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے اپنے صبر، استقامت اور سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی تعاون کونسل(جی سی سی) کے وہ ممالک جنہوں نے ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی کے اثرات برداشت کیے، انہوں نے محتاط انداز میں اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن ممکن ہے کہ وہ اپنی خارجہ ترجیحات پر دوبارہ غور کریں۔
جے رام رمیش نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو بھی اس معاہدے کا سیاسی نقصان اٹھانے والا لیڈر قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت نیتن یاہو کے لیے ایک واضح سفارتی شکست ہے، اگرچہ وہ اب بھی مختلف طریقوں سے اس عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں نے ایران کے خلاف جو اہداف مقرر کیے تھے، وہ حاصل نہیں ہو سکے۔ کانگریس لیڈرکا کہنا تھا کہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ صرف فوجی طاقت سے تمام مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم مودی کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ساتھ اختیار کی گئی مفاہمتی پالیسی کا تازہ مظاہرہ حالیہ دوطرفہ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں بھی دیکھا گیا، جو ان کے بقول ’’شرمناک اور قوم مخالف‘‘ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ نے کہا کہ گجرات میں تعاون کی تحریک کو نئی سمت اور رفتار…
تیسرے کوارٹر میں انڈونیشیا نے ایک گول کیا، لیکن بھارت نے اس کے جواب میں…
مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…
3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…
25 اور 26 ستمبر کو ہونے والی دو روزہ چوٹی کانفرنس میں خواتین صنعت کاروں،…
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس…