بین الاقوامی

US-Iran Agreement: امریکی صدر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو بتایا اہم، کہا-’’معاہدے سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہوگی کم اور عالمی توانائی سپلائی کو ملے گا استحکام‘‘

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہوئی ہے اور فرانس میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ، مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک مضبوط فریم ورک کی تشکیل اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنا ہے۔ ٹرمپ نے پیرس پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور جلد ہی اس کی باضابطہ تکمیل ہو جائے گی۔ بعد ازاں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کی جانب سے محلِ ورسائی میں دیے گئے عشائیے کے بعد انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔

علاقائی استحکام اور توانائی کی منڈی پر زور

امریکی صدر نے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان آئندہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا، خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنا اور دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شامل آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو معمول پر لانا ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو خطے کے استحکام اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں کمی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا، ’’اصل سوال یہ تھا کہ آپ کب تک خلیج میں فوج تعینات رکھیں گے؟ میرا خیال ہے کہ اگر معاملات درست سمت میں آگے بڑھے تو سب کچھ بہتر رہے گا۔‘‘

ایران کے جوہری پروگرام پر موقف

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مذاکرات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ جوہری مواد سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مفاہمتی یادداشت میں بڑے معاہدے کے لیے مقرر کردہ 60 روزہ مدت میں ضرورت پڑنے پر لچک اختیار کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران معاہدے کی شرائط پر عمل کرتا رہے، انہیں وقت کی مدت پر زیادہ اعتراض نہیں۔

فوجی کارروائی اور بیلسٹک میزائلوں پر تبصرہ

امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران معاہدے پر عمل نہیں کرتا تو فوجی کارروائی کا آپشن بدستور موجود رہے گا۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں اور روایتی بیلسٹک میزائلوں میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر خطے کے دیگر ممالک، جیسے سعودی عرب اور قطر، کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں تو ایران کے پاس محدود بیلسٹک میزائل صلاحیت ہونے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، تاہم جوہری ہتھیار کسی صورت قابل قبول نہیں ہوں گے۔

روس، یوکرین اور پابندیوں پر بھی اظہارِ خیال

روس۔یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ روس ایک بڑی فوجی طاقت ہے، لیکن یوکرین نے غیر معمولی حوصلہ دکھایا ہے اور اپنی پوزیشن پر مضبوطی سے قائم ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ روس کے خلاف عائد پابندیوں پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ تیل کی قیمتیں اس وقت کم ہیں، اس لیے پابندیوں کے حوالے سے نئے فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایک بار پھر اس معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی منڈیوں، توانائی کی سلامتی اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت اور اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Suchika Tariyal Makes History: ایشین گیمز 2026 میں سوچکا تاریال نے رقم کی تاریخ، ایم ایم اے میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی کھلاڑی

مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…

58 minutes ago

Jio Home Customers: جیو ہوم کے صارفین کو ملے گا ایمزون پر ائم لائٹ ایک سال مفت

3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…

1 hour ago