نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اترپردیش کے فریدپور سے قانون ساز اسمبلی کے رکن ڈاکٹر شیام بہاری لال کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، وزیر اعظم مودی نے کہا لکھا کہ ’’اترپردیش کے فریدپور کے رکن اسمبلی ڈاکٹر شیام بہاری لال کے انتقال سے بہت دُکھ ہوا ہے۔وہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے وقف بی جے پی کے محنتی لیڈر تھے، جن کے انتقال سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ غم کی اس گھڑی میں ان کے اہل خانہ اور حامیوں کے ساتھ میری گہری تعزیت ہے۔ اوم شانتی!‘‘
بتا دیں کہ اتر پردیش کے فریدپور اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر شیام بہاری لال کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ وہ بریلی کے سرکٹ ہاؤس میں پارٹی کی ایک اہم میٹنگ میں شریک تھے کہ اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کا یومِ پیدائش صرف ایک دن قبل ہی، یکم جنوری کو منایا گیا تھا۔ ان کے اچانک انتقال سے سیاسی حلقوں اور عوام میں گہرے صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کی دوپہر بریلی کے سرکٹ ہاؤس میں ریاستی مویشی پروری کے وزیر دھرم پال سنگھ کی صدارت میں ایک میٹنگ جاری تھی۔ اسی میٹنگ میں شرکت کے لیے فریدپور کے ایم ایل اے ڈاکٹر شیام بہاری لال اپنے حامیوں کے ساتھ پہنچے تھے۔ میٹنگ میں کئی عوامی نمائندے اور انتظامی افسران بھی موجود تھے۔ دورانِ اجلاس اچانک ڈاکٹر شیام بہاری لال کو سینے میں شدید درد محسوس ہوا۔ ابتدا میں انہوں نے اسے معمولی سمجھا، لیکن چند ہی لمحوں میں ان کی حالت بگڑنے لگی۔
موجود افسران اور لیڈروں نے فوری طور پر انہیں نزدیکی میڈی سٹی اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے ہنگامی علاج شروع کیا۔ تاہم ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود ان کی جان نہ بچائی جا سکی اور کچھ ہی دیر بعد ان کے انتقال کی خبر آ گئی۔ ڈاکٹر شیام بہاری لال فریدپور اسمبلی حلقہ میں نہایت مقبول اور شائستہ مزاج لیڈر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ عام لوگوں سے جلد گھل مل جانے والے لیڈر تھے اور عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سنتے اور حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے حلقے میں مسلسل سرگرم رہتے اور عوام کے درمیان موجود رہتے تھے۔ ان کے اچانک انتقال نے علاقے کے لوگوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ڈاکٹر شیام بہاری لال نے جمعرات کو ہی اپنا یومِ پیدائش منایا تھا، جس موقع پر دور دراز سے لوگ انہیں مبارک باد دینے آئے تھے۔ وہ فریدپور اسمبلی سیٹ سے مسلسل دوسری بار ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے، جو ان کی عوامی مقبولیت کا ثبوت ہے۔ سیاست کے ساتھ ساتھ تعلیمی میدان میں بھی ڈاکٹر شیام بہاری لال کو خاص احترام حاصل تھا۔ وہ اپنے پیچھے اہلیہ منجولتا، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے انتقال پر ضلع اور ریاست کے متعدد وزراء، سیاسی لیڈروں اور اعلیٰ افسران نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…