قومی

Pradhan Mantri Mudra Yojana: پردھان منتری مدرا یوجنا کے 11 سال مکمل، 57.79 کروڑ قرضوں کے ذریعے 40 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی تقسیم

بھارت میں چھوٹے کاروباروں اور مائیکرو انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) نے اپنے 11 سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس موقع پر حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس اسکیم کے تحت 57.79 کروڑ قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے مجموعی طور پر 40 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم مستفیدین میں تقسیم کی گئی ہے۔ یہ اسکیم سال 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں شروع کی گئی تھی، جس کا بنیادی مقصد ان افراد کو مالی مدد فراہم کرنا تھا جو روایتی بینکنگ نظام سے قرض حاصل کرنے سے محروم رہتے تھے۔ اس اقدام کو ’’فنڈ دی اَن فنڈڈ‘‘(محروم طبقات کو مالی سہولت فراہم کرنا) کے تصور کے تحت متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے بغیر کسی ضمانت کے چھوٹے اور غیر کارپوریٹ کاروباروں کو قرض دیا جاتا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس اسکیم کے تحت غیر زرعی اور غیر کارپوریٹ شعبوں میں سرگرم چھوٹے کاروباری افراد کو 20 لاکھ روپے تک کا بغیر ضمانت قرض فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف خود روزگار کو فروغ دینا ہے بلکہ معیشت کے نچلے طبقے کو مالی طور پر مضبوط بنانا بھی ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اس موقع پر کہا کہ پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) نے ملک میں کریڈٹ سسٹم کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد (ایم ایس ایم ای) کے لیے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت میں ایک خاموش انقلاب دیکھنے کو ملا ہے، جہاں کروڑوں افراد نے اعتماد کے ساتھ اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور خود کفالت کی راہ اختیار کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس اسکیم کے تحت دیے گئے کل قرضوں میں تقریباً دو تہائی حصہ خواتین کو دیا گیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں یہ منصوبہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً پانچواں حصہ ان افراد کو فراہم کیا گیا ہے جو پہلی بار اپنا کاروبار شروع کر رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نئے کاروباری افراد کو اس اسکیم کے تحت تقریباً 12.15 کروڑ قرضے دیے گئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسکیم نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے میں کس قدر مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری نے کہا کہ پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) مائیکرو انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے اور مالی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک کلیدی اقدام بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم سے خاص طور پر درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کو روزگار کے بہتر مواقع حاصل ہوئے ہیں، جو کل مستفیدین کا تقریباً 51 فیصد ہیں، جبکہ خواتین کا حصہ 67 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

یہ اسکیم چار زمروں میں تقسیم کی گئی ہے تاکہ مختلف سطح کے کاروباری افراد کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ ان میں شیشو کے تحت پچاس ہزار تک کے قرضوں کی فراہمی، کشور کے تحت پچاس ہزار سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ روپے تک قرضوں کو کور کرنا، ترون کے تحت 5 لاکھ روپے سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں کو کور کرنا، ترون پلس کے تحت 10 لاکھ روپے سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ پی ایم مدرا یوجنا کے تحت مینوفیکچرنگ، تجارت اور خدمات کے شعبوں کے ساتھ ساتھ زرعی سرگرمیوں سے جڑے کاموں کے لیے بھی قرض فراہم کیے جاتے ہیں، جس میں ٹرم لون اور ورکنگ کیپیٹل دونوں شامل ہیں۔ یہ اسکیم مالی شمولیت کے ایک وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے، جس کا مقصد بینکاری سہولیات سے دور افراد کو نظام میں شامل کرنا اور انہیں خود کفیل بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم مستقبل میں بھی چھوٹے کاروباری افراد کو سپورٹ فراہم کرتی رہے گی اور 2047 تک “ترقی یافتہ بھارت” کے ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Sibghatullah

Recent Posts

LEARN FROM THE WORLD BUT DESIGN FOR INDIA: ”دنیا سے سیکھیں، لیکن ہندوستان کے لیے ڈیزائن کریں“

دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر یوگیش سنگھ کا پائیدار ترقی، اختراع اور طلبہ کی…

33 minutes ago

PM Narendra Modi: جیور ایئرپورٹ کا نام اب وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر ہوگا، یوگی آدتیہ ناتھ کا اعلان

اتر پردیش کابینہ نے ’نریندر مودی انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ نام رکھنے کی تجویز منظور کرلی، وزیر…

4 hours ago