قومی

Practical Steps to Leadership in Biotech: بایو ٹیک میں قیادت کے عملی اقدامات

تحریر: گریراج  اگروال

لونی مادّے میں ردو بدل کرکے خشک سالی برداشت کرنے والی فصلیں اگانے سے لر کرسنتھیٹک بایولوجی(حیاتیاتی سائنس کی ایک جدید شاخ جس میں جانداروں کے جینیاتی نظام کو دوبارہ ڈیزائن کیا جاتا ہے یا بالکل نئے حیاتیاتی نظام، اجزاء یا جاندار تخلیق کیے جاتے ہیں تاکہ وہ مخصوص افعال انجام دے سکیں۔) کے استعمال سے ویکسین تیار کرنے تک نئے سائنسی اوزار اس طریقے کو تبدیل کر رہے ہیں جن سے ہم روایتی طور پر فصلیں اگاتے  ہیں، ادویات تیار کرتے ہیں اور صحت کی حفاظت کرتے ہیں۔یہ تیز ویکسین  سستے اور مؤثر علاج اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ بایو اکنامی، جو بایوٹیکنالوجی اور لائف سائنسز سے حاصل شدہ اقتصادی سرگرمی ہے، اب ادارہ جاتی تجربہ گاہوں سے آگے بڑھ کر چھوٹے اور منتشر شدہ سیٹ اپ میں بھی پھیل رہی ہے۔ ان طاقتور اوزاروں کا محفوظ استعمال ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہے اور امریکی مہارت ، تجارت کاری اور بایو سکوریٹی میں بہترین طریقوں کے ذریعہ اہم راہنمائی فراہم کرتی ہے۔

امریکی حیاتیاتی معیشت

ہندوستان کے شہر بینگالورو میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے سینئر محقق سریشنام دیو نے حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام کے ذریعے امریکی حیاتیاتی معیشت کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ پروگرام کی تھیم تھی ’ محفوظ، مستحکم اور لچکدار حیاتیاتی معیشت کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا۔ ‘

اس پروگرام میں پالیسی سازوں، سائنس دانوں، موجدوں، ٹیکنالوجی کے تجارتی ماہرین، بایوٹیک صنعت کے رہنماؤں، کسانوں اور صحتِ عامہ کے منتظمین سے ملاقاتیں شامل تھیں، جنہوں نے  نام دیو کو یہ جامع فہم دیا کہ  امریکہ کس طرح تحقیق ، صنعت اور پالیسی کی یکجائی کرکے اختراع کے ذریعے خوش حالی کو فروغ دیتا ہے۔

نام  دیو کہتے ہیں ’’یہ ملاقاتیں اس لحاظ سے بے حد قیمتی ثابت ہوئیں کہ انہوں نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ بنیادی سطح کی کوششوں سے لے کر حکومتی اور صنعتی حکمت عملیوں تک ، امریکی بایو اکونومی کس طرح کام کرتی ہے۔ ‘‘ انہوں نے اختراعی اضلاع کے ماڈل اور امریکی جامعات کے اس تعاون کا مشاہدہ کیا جو وہ محققین کو اپنی ایجادات کو تجارتی سطح تک لانے میں فراہم کرتی ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں ’’ میں نے اختراعی مراکز، کھیتوں اور ایگری ٹیک اور ہیلتھ ٹیک مراکز کے دورون کے دوران اختراعی حلوں کی عملی ترقی اور نفاذ کو زمینی سطح پر دیکھا۔‘‘ نام دیو کے مطابق دوسرے شرکاء کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے ساتھیوں  سے سیکھنے کے قیمتی مواقع فراہم کیے۔

بصیرتیں اور چیلنج

نام دیو امریکی طرزِ کار سے خاصے متاثر ہوئے، جس کے تحت اختراع پر مبنی بایو اکونومی کی تشکیل میں جدید ترین تحقیق کو صنعتی تقاضوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، اور ساتھ ہی مضبوط حفاظتی اور اخلاقی معیارکو برقرار رکھا جاتا ہے ۔

ان کا ماننا ہے کہ اس شعبے میں امریکہ اورہندوستان کا تعاون بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔وہ کہتے ہیں ’’ امریکہ  سرمایہ اور ٹیکنالوجی فراہم کرتا ہے، جبکہ ہندوسستان  انسانی صلاحیت اور تیزی سے پھیلتا ہوا بازار پیش کرتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں  ’’مصنوعی ذہانت اور بایوٹیکنالوجی کے سنگم پر ہونے والی شراکتیں انقلابی پیش رفت کا سبب بن سکتی ہیں۔‘‘

نام دیو بایو اکونومی میں سلامتی اور تحفظ سے متعلق چیلنج پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جن میں دوہری استعمال والی تحقیق سے جڑے خدشات ، مصنوعی ڈی این اے کی نگرانی، تجربہ گاہوں میں غیر مساوی حیاتیاتی تحفظ کے ضوابط اور اعلیٰ سطحی بایو سکوریٹی لیبس میں  سائبر سلامتی کے خطرات شامل ہیں۔

یہ مسائل نام دیو کے نزدیک رکاوٹیں  نہیں بلکہ تعاون مضبوط کرنے کے مواقع ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ بایو مینو فیکچرنگ، بایو انرجی، اے آئی۔ بایو تعامل اور بایو سکوریٹی کے شعبوں میں باقاعدہ اسٹریٹجک مذاکرات دونوں ملکوں کو مشترکہ چیلنج کو سمجھنے اور مؤثر حل تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

تعاون کے مواقع

نام دیو و ویکسین کو امریکہ اور ہندوستان کے لیے ایک امید افزا شعبہ سمجھتے ہیں، جہاں امریکی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی جدت ہندوستان  کی سستی پیداوار کی صلاحیت کے ساتھ مل کر صحت کی حفاظت اور اقتصادی خوشحالی کو فروغ دے سکتی ہے۔ مزید برآں، وہ بتاتے ہیں کہ ’’متبادل اور پائیدار خوراک کے ذرائع دونوں ممالک کی اسٹارٹ اپس اور بایوفاؤنڈریز (خودکار سہولیات جو انجینئرڈ مائیکروب تیار کرتی ہیں) کے لیے شراکت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔‘‘ سرکلر بایو اکونومی ، جو فضلہ کو قیمتی وسائل میں تبدیل کرتی ہے، بھی مشترکہ جدت کے لیے ایک امید افزا شعبہ ہے، جس میں پلاسٹک کے تحلیل سے لے کر انجینئرڈ مائیکروب کے ذریعے گندے پانی کا علاج شامل ہے۔

بایو سکوریٹی ایک اور اہم شعبہ ہے جہاں امریکی قیادت عالمی معیارات کو تشکیل دے سکتی ہے۔  نام دیو نے اس بات پر زور دیا کہ ’’بایو سکوریٹی  میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، بشمول ڈی این اے سنتھیسس اور اے آئی۔بایو آلات کے لیے معیارات اور حفاظتی اقدامات کی تیاریاور فروغ۔‘‘  انہوں نے محفوظ اور محفوظ طریقوں کو یقینی بنانے کی مشترکہ ذمہ داری کو اجاگر کیا۔

زراعت بھی بایوٹیک جدت کے لیے ایک اہم شعبہ ہے، جہاں امریکی تحقیقی قیادت کھیتی باڑی میں پیش رفت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ نام دیو نے کہا’’ مائیکروبز کو اس طرح تیار کرنے کی کوششیں جو نائٹروجن کو مؤثر طریقے سے جذب کریں اور زمین کے معیار کو بہتر بنائیں، زیادہ پیداواردے سکتی ہیں۔‘‘  ایسے انقلابی اقدامات زیادہ مضبوط فصلیں پیدا کر سکتے ہیں اور خوراک کی فراہمی کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ہندوستان کے مابین  شراکت داری کو بڑھانا موجودہ تعاون کو یونیورسٹیوں، لیبارٹریوں، اور صنعتوں کے درمیان وسعت دینے پر مشتمل ہو سکتا ہے۔

نام دیو نے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے بے پناہ امکانات دیکھے، مگر زور دیا کہ یہ حاصل کرنے کے لیے جرات مندانہ وژن، جدت اور بین شعبہ جاتی تعاون ضروری ہے۔ چونکہ سنتھیٹک بایولوجی اور مصنوعی ذہانت عالمی حیاتیاتی معیشت کو دوبارہ متعین کر رہی ہیں، امریکہ کی قیادت، جو جدت، حفاظت اور تعاون پر مبنی ہے، اس تبدیلی کو محفوظ اور خوشحال دنیا کی جانب رہنمائی کر سکتی ہے۔

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

Bharat Express

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

5 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

5 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

6 hours ago