علیحدگی پسند بیانیہ پیش کرنے کے الزام میں معروف مصنفہ اروندھتی رائے اور قانونی ماہر اے جی نورانی کی کتابوں سمیت حکومت کی جانب سے 25 کتابوں پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد پولیس نے ان ممنوعہ کتابوں کی شناخت اور انھیں ضبط کرنے کے لیے وادی میں کتب خانوں (بک شاپس) پر چھاپے مارے۔ اس سلسلے میں سری نگر، کولگام اور وادی کے کچھ دوسرے حصوں میں کتابوں کی دکانوں پر چھاپے مارے گئے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ محکمہ داخلہ کے حکم کی تعمیل میں اور بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات کے تحت سری نگر میں ممنوعہ کتابوں کی تلاش اور انھیں ضبط کرنے کے لیے مختلف بک شاپس پر چھاپے مارے گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس آپریشن کا مقصد کسی بھی ایسے لٹریچر کی نشاندہی کرنا اور انھیں ضبط کرنا ہے، جو غلط بیانیوں کا پرچار کرتا ہے یا علیحدگی پسند نظریات کو فروغ دیتا ہے، یا دوسری صورت میں ہندوستان کی خودمختاری اور اتحاد کے لیے خطرہ ہے۔
پولیس کے ترجمان نے کہا کہ یہ چھاپے پرامن طریقے سے قانونی دائرے میں کی گئیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر ضرورت ہوئی تو مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔ یہ اقدامات تخریبی اور ملک دشمن مواد کے انسداد کی وسیع تر کوشش کے حصے کے طور پر کیے گئے ہیں جو بدامنی کو ہوا دے سکتے ہیں یا قومی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘‘ پولیس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ’’ممنوعہ کتابوں‘‘ سے دور رہیں اور ممنوعہ لٹریچر کی گردش سمیت کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں۔ واضح رہے کہ حکومت نے کل 25 کتابوں پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے، جن پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہ کتابیں ’’انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کو ہوا دیتی ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…