قومی

Poila Boishakh Modi Message: پوئیلا بوئشاخ پر وزیر اعظم مودی کا سیاسی پیغام: ٹی ایم سی پر بدعنوانی اور بدانتظامی کا الزام، بنگال کی عوام سے مانگا ساتھ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز ’پوئیلا بوئشاخ‘ کے موقع پر مغربی بنگال کے عوام کو خط لکھ کر مبارکباد دی۔ اس دوران انہوں نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس حکومت پر نشانہ بھی سادھا۔ اپنے خط میں وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ گزشتہ 15 برسوں میں مغربی بنگال میں بدانتظامی، افراتفری اور بدعنوانی کا ماحول رہا ہے، جس سے عام لوگوں کے بنیادی حقوق، وقار اور ریاست کی بھرپور ثقافتی وراثت کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ماؤں اور بہنوں کی سلامتی، نوجوانوں کے روزگار کے مواقع اور غریبوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں۔

کبھی پورے ملک کو سمت دکھاتا تھا بنگال

وزیر اعظم نے مغربی بنگال کی شاندار تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کبھی پورے ملک کو نئی سمت دکھانے والی رہی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ترقی یافتہ مغربی بنگال کی تعمیر کا عزم کریں۔

انہوں نے کہا، ’’آئیے ہم سب مل کر ایسے مغربی بنگال کی تعمیر کریں جہاں کوئی غریب بھوکا نہ سوئے، ہر کسی کو کھانا ملے، خواتین خود کو محفوظ محسوس کریں اور بلا خوف گھر سے باہر نکل سکیں، اور نوجوانوں کو روزگار کے لیے ریاست چھوڑ کر نہ جانا پڑے۔‘‘

’بی جے پی بنگال کو ترقی کے راستے پر لے جائے گی‘

وزیر اعظم نے ریاست کے مستقبل کو آنے والے اسمبلی انتخابات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو مغربی بنگال ایک بار پھر ترقی کی راہ پر آگے بڑھے گا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بی جے پی حکومت بننے کے بعد ریاست ملک کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھے گا اور ایک ’ترقی یافتہ ریاست‘ کے طور پر اپنی پہچان دوبارہ حاصل کرے گا۔انہوں نے انتخابات کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے ووٹروں سے درست فیصلہ لینے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم مودی نے اسے ’سچ اور جھوٹ کی لڑائی‘ قرار دیا اور لوگوں سے جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مغربی بنگال کے لوگ بی جے پی کی حمایت کریں گے اور پارٹی کو تاریخی کامیابی دلائیں گے۔واضح رہے کہ مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس نے 213 نشستوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی کو 77 نشستیں ملی تھیں۔ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں اپنا کھاتا بھی نہیں کھول پائی تھیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Tej Pratap tried to enter the house: تیج پرتاپ نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی تھی، پہلی بار سامنے آئیں انوشکا یادو، ڈانڈیا پروگرام میں پہنچیں بیٹی کے ساتھ

انوشکا یادو اپنی بیٹی اُجّینی کے ساتھ ڈانڈیا کلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔ انہوں…

14 minutes ago

A Chill in the Air in Delhi-NCR: دہلی-این سی آر میں سردی نے دی دستک، درجۂ حرارت 6 ڈگری تک گرا، آج بھی ہوگی بارش؟

کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…

49 minutes ago

Lehra Do Tiranga March: دفعہ 163 نافذ، سینٹرل پارک دو دن کے لیے بند، سی جے پی کی ترنگا یاترا پر دہلی پولیس کا بیان

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…

2 hours ago

Punam Raut Quits International Cricket: پونم راوت نے بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا کیا اعلان

پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…

11 hours ago