قومی

Mehul Choksi Extradition : پی این بی گھوٹالے کا مفرور مرکزی ملزم میہول چوکسی کو بیلجیم کورٹ سے بڑا جھٹکا، بھارت واپسی کی راہ ہموار

پی این بی گھوٹالے کا مفرور مرکزی ملزم اور ہیرا تاجر میہول چوکسی کو بیلجیم کی سپریم کورٹ سے منگل کے روز بڑا دھچکا لگا۔ عدالت نے اُس کی وہ اپیل مسترد کر دی جس میں اس نے بھارت کو اپنے ممکنہ حوالگی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی ایجنسیوں کے لیے چوکسی کو وطن واپسی کے عمل میں تیزی لانے کا راستہ مزید آسان ہو گیا ہے۔ چوکسی اس وقت بیلجیم کے شہر اینٹورپ کی جیل میں بند ہے اور 2018 سے مختلف عدالتوں میں مقدمہ لڑ کر بھارت واپسی سے بچنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

چوکسی نے اس سال اکتوبر میں بیلجیم کی اعلیٰ ترین عدالت، کورٹ آف کیسیشن، میں اپیل دائر کی تھی۔ اس سے قبل 17 اکتوبر کو اینٹورپ کورٹ آف اپیل نے بھارت کے خورد برد اور مالی جرائم کے سنگین الزامات کی بنیاد پر کیے گئے درخواستِ حوالگی کو برقرار رکھتے ہوئے اسے قابلِ عمل قرار دیا تھا۔ عدالت کے اس اقدام کو چوکسی کی برسوں سے جاری قانونی لڑائی کے اہم ترین اور آخری مراحل میں شمار کیا جا رہا ہے۔ بھارتی حکومت کی درخواست پر اسے اپریل 2024 میں اینٹورپ سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ عدالتی حراست میں ہے۔

میہول چوکسی نے نہ صرف بیلجیم بلکہ دیگر ممالک میں بھی قانونی راستے اپنا کر اپنے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ گزشتہ دنوں اس کی ضمانت درخواست بھی اس بنیاد پر خارج کر دی گئی کہ وہ ’’فلائٹ رسک‘‘ یعنی دوبارہ فرار ہونے کا انتہائی ممکنہ خدشہ رکھنے والا ملزم ہے۔ اسی کے ساتھ چوکسی نے خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں درخواست دائر کر کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے اُسے ’’بھگوڑا اقتصادی مجرم‘‘ (ایف ای او) قرار دینے کی کارروائی کو منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی، مگر ممبئی کی عدالت نے اس درخواست کو بھی ناقابلِ قبول قرار دے کر مسترد کر دیا۔

پی این بی گھوٹالے کی بنیاد 2018 میں اُس وقت سامنے آئی جب میہول چوکسی اور اس کے بھانجے نیرَو مودی پر ممبئی کی پی این بی بریڈی ہاؤس برانچ کے افسران سے ملی بھگت کر تقریباً 13,000 کروڑ روپے کے غیر قانونی لیٹر آف انڈرٹیکنگ (ایل او یو ایس) اور فارن لیٹر آف کریڈٹ (ایف ایل سی ایس) حاصل کرنے کے الزامات لگے۔ اس فراڈ نے ملک کے بینکاری نظام کو شدید جھٹکا دیا تھا۔ نیرَو مودی فی الحال لندن کی جیل میں بند ہے اور وہ بھی چوکسی ہی کی طرح بھارت حوالگی سے بچنے کے لیے قانونی جنگ لڑ رہا ہے۔

بیلجیم کی سپریم کورٹ کا تازہ فیصلہ دونوں ملزمان کے خلاف بھارتی ایجنسیوں کے موقف کو مضبوط بناتا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میہول چوکسی کو جلد ہی بھارت لایا جا سکتا ہے، جہاں اس کے خلاف منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور سنگین مالی جرائم کے مقدمات چلائے جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

7 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

8 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

8 hours ago