قومی

Parliament Winter Session : پارلیمنٹ میں ’وندے ماترم‘ اور انتخابی اصلاحات پر بحث: راہل گاندھی کے الزامات کے بعد آج وزیر داخلہ امت شاہ دیں گے جواب

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے جاری سرمائی اجلاس کے آٹھویں دن راجیہ سبھا میں قومی ترانے ’وندے ماترم‘ کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر بحث جاری رہی، جبکہ لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر پرجوش مباحثے کا سلسلہ دن بھر برقرار رہا۔ منگل کے روز کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی جانب سے حکومت پر ’ووٹ چوری‘ کے سنگین الزام لگانے اور الیکشن کمیشن کی خودمختاری پر سوال اٹھانے کے بعد سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ آج وزیر داخلہ امت شاہ کے تفصیلی جواب کا پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ سرمائی اجلاس یکم دسمبر سے شروع ہوا تھا اور اب تک سات دن کی کارروائی میں ’وندے ماترم‘ سمیت انتخابی اصلاحات جیسے حساس موضوعات پر اہم بحثیں سامنے آ چکی ہیں۔ ہر دن ہنگامہ آرائی اور تکرار دیکھنے کو مل رہی ہے اور آج بھی ایوانوں میں اسی طرح کا ماحول بنے رہنے کی توقع ہے۔

راجیہ سبھا میں ’وندے ماترم‘ پر مسلسل بحث
راجیہ سبھا میں قومی ترانے کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر منگل کو بھی بحث کا سلسلہ جاری رہا تھا، جس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت کئی سرکاری اراکین نے حصہ لیا۔ آج معمول کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بحث دوبارہ شروع ہوگی۔ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا اور کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش کے بھی خطاب کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد راجیہ سبھا میں انتخابی اصلاحات سے متعلق بحث ہوگی، جس کا آغاز قانون وزیر ارجن رام میگھوال کر سکتے ہیں۔ کانگریس کی جانب سے اجے ماکن، دگوجئے سنگھ اور رندیپ سرجے والا اپنے نکات پیش کریں گے۔

لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر پرجوش مباحثہ
لوک سبھا میں بھی انتخابی اصلاحات پر بحث نے ماحول کو گرم کیے رکھا ہے۔ حزب اختلاف کی نمائندگی کرتے ہوئے کے سی وینوگوپال، عمران مسعود اور ورشا گائیکواڑ نے اپنے مؤقف پیش کیے۔ وزیر داخلہ امت شاہ شام تقریباً پانچ بجے ایوان میں اس بحث کا جواب دیں گے، جسے کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

راہل گاندھی کے سخت حملے
منگل کو لوک سبھا میں تقریر کے دوران راہل گاندھی نے حکومت اور آر ایس ایس پر الیکشن کمیشن سمیت اہم آئینی اداروں پر ’’قبضہ‘‘ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ”ووٹ چوری سب سے بڑا ملک دشمن عمل ہے“۔ راہل نے مطالبہ کیا کہ ہر سیاسی جماعت کو ووٹنگ سے ایک ماہ قبل مشین ریڈیبل ووٹر لسٹ، پولنگ اسٹیشنوں کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اور ای وی ایم اسٹرکچر کی تکنیکی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر کمشنروں کی تقرری کے 2023 کے قانون پر بھی اعتراض اٹھایا، جس میں سلیکشن کمیٹی میں وزیراعظم، لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف اور ایک مرکزی وزیر شامل ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں آج ہونے والی بحث اور امت شاہ کے جواب کو سیاسی لحاظ سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے انتخابی اصلاحات اور الیکشن کمیشن کی شفافیت سے متعلق جاری تنازع مزید واضح ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Water crisis in Delhi or the tanker business? دہلی میں پانی کا بحران یا ٹینکروں کا کاروبار؟ بھارت ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…

8 hours ago

PM Modi speaks with Canada PM Mark Carney: ’’ہندوستان اور کینیڈا کے تعلقات میں مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانے پر اتفاق‘‘ وزیراعظم مودی کی مارک کارنی سے گفتگو

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…

9 hours ago

Rahul Gandhi Defamation Case: ’چوکیدار چور ہے‘ ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، نچلی عدالت کی کارروائی پر روک

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…

9 hours ago