امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات نے پاکستان کے لیے نئی مالی راہیں کھول دی ہیں۔ شدید معاشی بدحالی کے شکار پاکستان کو آئی ایم ایف نے 1.2 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 10,782 کروڑ روپے) کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔
ٹرمپ کی دوستی نے پاکستان کی مشکلات کیں آسان
عام طور پر آئی ایم ایف کسی بھی ملک کو قرض دینے سے پہلے اُس کی معاشی پالیسیوں اور مالیاتی ڈھانچے کا سخت جائزہ لیتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کے فیصلوں پر امریکہ کا میرٹ سے زیادہ اثر رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر اور ٹرمپ کی ملاقات کے دوران بننے والی مشترکہ سمجھ بوجھ نے پاکستان کے لیے قرض کی راہ ہموار کر دی۔ بھارت کے مسلسل اعتراضات کے باوجود پاکستان کو بڑی رقم مل جانا ان خدشات کو تقویت دیتا ہے کہ واشنگٹن اس وقت اسلام آباد کو سفارتی سطح پر سہارا دینے کے موڈ میں ہے۔ نئے قرض سے پاکستان کو فوری معاشی سہارا تو ملے گا، لیکن طویل مدت میں یہ صرف وقتی مرہم ثابت ہو سکتا ہے۔
ادھر امریکہ خود قرض کے ’سمندر‘ میں ڈوبا
حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہی امریکہ جو پاکستان جیسے ممالک کے لیے عالمی مالیاتی فیصلے متاثر کرتا ہے، خود تاریخ کے بدترین قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کا مجموعی قرض 105.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو امریکی جی ڈی پی کا تقریباً ساڑھے تین گنا بنتا ہے۔ صرف وفاقی حکومت کا قرض 38.2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے، جبکہ امریکی عوام بھی ذاتی قرض، مارگیج اور اسٹوڈنٹ لونز میں بری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔
امریکی قرض کا پھیلتا ہوا دائرہ
سال 1995 میں وفاقی قرض 4.9 ٹریلین ڈالر تھا، جو 2005 میں بڑھ کر 8 ٹریلین ہوا۔ 2015 تک یہ 18.1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا اور اب یہ 38.2 ٹریلین ڈالر سے اوپر ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2028 تک یہ قرض خطرناک حد تک پہنچ کر 50 ٹریلین ڈالر ہو جائے گا۔ کورونا وبا کے بعد صرف چند سالوں میں اس قرض میں 15 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
بڑھتے سود نے امریکی معیشت کو جھنجھوڑ دیا
امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ اب ترقیاتی اخراجات نہیں بلکہ قرض پر سود ادا کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت روزانہ تقریباً 3 ارب ڈالر صرف سود کی ادائیگی میں خرچ کر رہی ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی مضبوط معیشت کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔
مستقبل کے سنگین چیلنجز
ڈونالڈ ٹرمپ اگرچہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے دعوے کرتے رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ملک کا مالی ڈھانچہ قرض کے جال میں پھنس چکا ہے۔ اگر فوری اور سخت اصلاحات نہ کی گئیں تو وہ وقت دور نہیں جب حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں، فلاحی اسکیموں اور انفراسٹرکچر کے لیے سرمایہ ہی باقی نہیں رہے گا۔ تمام آمدنی صرف قرض چکانے میں صرف ہو جائے گی اور امریکہ کی اقتصادی قوت پر گہرا اثر پڑے گا۔ یہ صورت حال نہ صرف امریکہ کے لیے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تشویش پیدا کر رہی ہے، کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا قرض بحران عالمی مالی نظام کو بھی غیر مستحکم کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…