نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی اگلے ہفتے اردن کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو نئی بلندی دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم مودی نے فروری 2018 میں اردن کا دورہ کیا تھا، جس کے فوراً بعد کنگ عبداللہ دوم نے فروری-مارچ 2018 میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔ سال 2025 دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا بھی نشان ہے۔ سال 2018 کے بعد دونوں لیڈروں کی متعدد بین الاقوامی فورمز پر ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ حالیہ برسوں میں جون 2024 میں جی-7 سمٹ اپولیا (اٹلی)، دسمبر 2023 میں سی او پی-28 دبئی، اکتوبر 2019 میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو ریاض اور ستمبر 2019 میں 74ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نیویارک میں مودی اور کنگ عبداللہ کی ملاقات ہوئی۔ اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد دونوں لیڈروں نے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی تھی۔
اردن کا کل رقبہ 89,342 مربع کلومیٹر اور آبادی 1 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ ہے۔ تجارت کے لحاظ سے بھارت، اردن کا چوتھا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ مالی سال 2023-24 میں دونوں ممالک کا دو طرفہ تجارت 2.875 بلین ڈالر تک پہنچا۔ بھارت کے لیے اردن کھاد، خصوصاً فاسفیٹ اور پوٹاش کا بڑا سپلائر ہے۔ بھارت کی آئی ایف ایف سی او اور اردن فاسفیٹس مائنز کمپنی (جے پی ایم سی) کے درمیان اردن انڈیا فرٹیلائزر کمپنی (جے آئی ایف سی او) کے نام سے ایک مشترکہ منصوبہ چل رہا ہے، جس میں 860 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ یہ منصوبہ فاسفورک ایسڈ کی تیاری اور بھارت کو اس کی مسلسل سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اسی کے ساتھ اردن کے کوالیفائیڈ انڈسٹریل زونز (کیو آئی زیڈ) میں 15 سے زائد این آر آئی ملکیت والی گارمنٹ کمپنیاں تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
دفاعی تعلقات کی بات کریں تو بھارت اور اردن نے 2018 میں دفاعی تعاون کا ایم او یو سائن کیا تھا۔ 2024 میں بھارتی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے تین رکنی وفد نے اقابا میں ہونے والی سوفیکس کانفرنس میں شرکت کی۔ اسی سال اردن رائل نیوی کا تین رکنی وفد 29 اپریل سے 4 مئی تک سدرن نیول کمانڈ کوچین اور انڈین نیول اکیڈمی ایژیمالا کے دورے پر آیا۔ اردن میں اس وقت تقریباً 17,500 بھارتی شہری مقیم ہیں، جو بنیادی طور پر گارمنٹ، تعمیرات، مینوفیکچرنگ، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں کام کرتے ہیں۔
ثقافتی تعاون میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ جولائی 2024 میں آئی سی سی آر اسپانسرڈ گروپ ”نٹرّاج کلچرل شلپی سوسائٹی“ نے اردن کے معروف 38ویں جیرش فیسٹیول آف کلچر اینڈ آرٹس میں آسام کا روایتی رقص پیش کر کے داد سمیٹی۔ بھارت اردن سے کچا اور تیار کھاد، فاسفیٹ، پوٹاش، فاسفورک ایسڈ اور کیمیکلز درآمد کرتا ہے، جبکہ اردن کو ریفائنڈ پٹرولیم، چاول، الیکٹریکل مشینری، انجینئرنگ مصنوعات، کیمیکلز، آٹو پارٹس، گاڑیاں اور کافی برآمد کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…
بھارتی ریلوے کی جانب سے ایل این جی ڈوئل فیول ٹیکنالوجی اپنانا ایندھن کی کارکردگی…
اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ…
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…
روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس…
موجودہ بارش معمول کی بارش نہیں ہے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر عام…