نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے عالمی تعلیمی منظرنامے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی ساکھ کا مظہر بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ درجہ بندی ہندوستانی جامعات اور تحقیقاتی اداروں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کی گئی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے لکھا: “کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی 2026 رینکنگ ہمارے تعلیمی شعبے کے لیے بڑی خوشخبری لے کر آئی ہے۔ ہماری حکومت ہندوستان کے نوجوانوں کے فائدے کے لیے تحقیق اور اختراعی ماحولیاتی نظام کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔”
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم، تحقیق اور جدت طرازی کو فروغ دے کر نوجوانوں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بن سکیں۔ حکومت کی یہ کوشش اعلیٰ تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے اور ہندوستان کو ایک علمی و اختراعی مرکز بنانے کے ویژن کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ ہندوستان نے اس سال کی QS ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2026 میں بھارت کی جامعات نے شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ تقریباً 50 فیصد بھارتی تعلیمی اداروں کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے، جو کہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ اس سال آئی آئی ٹی دہلی نے سب سے بڑی چھلانگ لگائی ہے۔ یہ ادارہ اب عالمی درجہ بندی میں 123ویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ دو سال قبل یعنی 2024 میں اس کی رینکنگ 219 تھی اور 2025 میں 150 پر آ گئی تھی۔
آئی آئی ٹی بمبئی، جو گزشتہ بار بھارت کی صفِ اول کی یونیورسٹی تھی، اب دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اگرچہ اس کی عالمی رینکنگ میں معمولی گراوٹ آئی ہے—2025 میں یہ 118 ویں مقام پر تھا جبکہ اب 129ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ آئی آئی ٹی مدراس کی رینکنگ میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ چنئی میں واقع یہ ادارہ اب 180ویں مقام پر ہے اور پہلی مرتبہ ٹاپ 200 جامعات میں شامل ہوا ہے۔ پچھلے سال یہ 227ویں نمبر پر تھا۔ ان تین اداروں کے بعد آئی آئی ٹی کھڑگپور اور آئی آئی ایس سی بنگلور نے بالترتیب چوتھا اور پانچواں مقام حاصل کیا ہے۔ دہلی یونیورسٹی (DU) کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے؛ اس کی رینکنگ 407 سے بڑھ کر اب 328ویں مقام پر پہنچ گئی ہے۔
اس سال بھارت کے 8 نئے تعلیمی اداروں کو کیو ایس رینکنگ میں شامل کیا گیا ہے۔ اب بھارت کے کل 54 ادارے اس عالمی درجہ بندی میں موجود ہیں۔ اس طرح بھارت چوتھے نمبر پر آ گیا ہے، جو امریکہ (192 ادارے)، برطانیہ (90 ادارے) اور چین (72 ادارے) کے بعد ہے۔ اگر دنیا بھر کی بات کی جائے تو اس سال بھی میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) نے پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ یہ ادارہ مسلسل 14ویں سال نمبر ایک پر برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امریکی حکام کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک کی گرین لینڈ میں حساس سرمایہ…
قانون میں امریکا کے یورپی اتحادیوں کو بعض پابندیوں سے بچانے کے لیے بھی گنجائش…
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…