وڈنگر: ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی نظامِ حیات کے احیا کی سمت ایک بڑی اور قابلِ تقلید پہل کے تحت وزیراعظم نریندر مودی کے آبائی گاؤں وڈنگر کو سرسبز و شاداب بنانے کا جامع منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہارٹ فلنیس انسٹی ٹیوٹ اور حکومتِ گجرات کے اشتراک سے شروع کی گئی اس مہم کے تحت اب تک پچاس ہزار سے زائد نایاب اور مفید پودے لگائے جا چکے ہیں، جس سے نہ صرف علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ماحولیات کے تحفظ اور مقامی ایکو سسٹم کے استحکام کو بھی تقویت ملی ہے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل کی رہنمائی میں ریاستی حکومت وڈنگر کو ایک ماڈل گرین سٹی کے طور پر فروغ دینے کی سمت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد صرف درخت لگانا ہی نہیں بلکہ مقامی ماحولیاتی توازن کو بحال کرنا، آبی ذخائر کو محفوظ بنانا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔ وڈنگر، جو کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جنم بھومی اور کرم بھومی دونوں ہے، وہاں اس سطح پر ہو رہا شجرکاری کا کام قومی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ہارٹ فلنیس انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے وڈنگر کے آٹھ تاریخی اور آثارِ قدیمہ کی اہمیت رکھنے والے مقامات پر بڑے پیمانے پر پودے لگائے جا رہے ہیں۔ ان مقامات میں تورن ہوٹل کے اطراف، لٹیری واو، امباجی کوٹھا جھیل، وشنوپوری جھیل اور دیگر قدیم مقامات شامل ہیں۔ یہاں رودراکش، مہوگنی، گولڈن بانس اور دیگر نایاب انواع کے ہزاروں پودے لگائے گئے ہیں، جو مستقبل میں گھنے درختوں کی شکل اختیار کر کے علاقے کی فضا کو صاف اور خوشگوار بنائیں گے۔ ہارٹ فلنیس انسٹی ٹیوٹ کے احمدآباد زونل کوآرڈینیٹر کیجل کنسارا نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے شروع کیا گیا ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم ایک گہرا جذباتی اور فکری پیغام رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ماں ہمیں زندگی عطا کرتی ہے، اسی طرح دھرتی ماں بھی ہمیں پالتی ہے۔ درخت اس زمین کے لیے سانس کی مانند ہیں، جو آکسیجن فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ درخت سورج کی روشنی، پانی اور غذائی اجزا کو جذب کر کے ہمیں پھل، سایہ اور صاف ہوا دیتے ہیں، جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے فضائی آلودگی کم کرتے ہیں۔
کیجل کنسارا کے مطابق، وڈنگر میں اس مہم کی شروعات وشنوپوری تالاب سے کی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے حکومت نے آٹھ اہم مقامات انسٹی ٹیوٹ کے حوالے کیے ہیں۔ اب تک تقریباً پچاس ہزار پودے لگائے جا چکے ہیں اور یہ عمل ہنوز جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف پودے لگانا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی اتنی ہی ضروری ہے، اسی لیے ہر پودے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ وہ ایک مضبوط درخت بن سکے۔ ہارٹ فلنیس انسٹی ٹیوٹ کے رضاکار ڈاکٹر آدتیہ چودھری نے بتایا کہ ان آٹھ مقامات پر ایکو سسٹم کو از سرِ نو زندہ کرنے کی مکمل ذمہ داری انسٹی ٹیوٹ کو سونپی گئی ہے۔ جھیلوں کے اطراف رین فاریسٹ طرز پر شجرکاری کی جا رہی ہے تاکہ نمی برقرار رہے اور مقامی حیاتیاتی تنوع کو فروغ ملے۔ پودے لگانے کے بعد کم از کم تین برس تک ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ جب درخت مضبوط ہو جاتے ہیں اور قدرتی توازن بحال ہو جاتا ہے تو ان مقامات کو مقامی انتظامیہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر آدتیہ نے مزید بتایا کہ پودے حیدرآباد سے لائے جاتے ہیں اور انہیں لگانے کے لیے ایک سائنسی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ تین فٹ گہرے گڑھے کھود کر انہیں چند دن کے لیے تیار کیا جاتا ہے، پھر اس میں ایکٹیویٹڈ چارکول، کوکوپیٹ اور زرخیز مٹی کا آمیزہ ڈالا جاتا ہے۔ اس کے بعد ورمی کمپوسٹ اور نیم کی کھلی شامل کر کے پودے لگائے جاتے ہیں۔ ڈرِپ اریگیشن اور رین گن جیسی جدید تکنیکوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے تاکہ پودوں کی نشوونما بہتر ہو۔ ماہرین کے مطابق، وڈنگر میں جاری یہ شجرکاری مہم اس بات کی مثال ہے کہ اگر حکومت اور سماجی ادارے مل کر کام کریں تو ماحولیات کے تحفظ میں بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف وزیراعظم کے ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ نظریے کو عملی شکل دے رہا ہے بلکہ ’گرین گجرات، گرین انڈیا‘ کے خواب کو بھی حقیقت کے قریب لا رہا ہے۔ وڈنگر میں ہریالی کی یہ نئی کہانی آنے والے برسوں میں پورے ملک کے لیے ایک مثالی ماڈل بن سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…