بین الاقوامی

Tanggula railway station Tibet : بادل جہاں سے نیچے نظر آتے ہیں! ملئے دنیا کے اس انوکھے ریلوے اسٹیشن سے جہاں انسان کا ٹھہرنا ناممکن ہے

ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے کبھی ٹرین کا سفر نہ کیا ہو۔ پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی ٹرین کے مناظر کھڑکی سے ایسے دکھائی دیتے ہیں کہ دل خوش ہو جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ دنیا کا سب سے اونچا ریلوے اسٹیشن کیسا ہوگا؟ کیا وہاں بھی ہمارے عام ریلوے اسٹیشنوں کی طرح بھیڑ بھاڑ اور چائے پکوڑوں کی آوازیں سنائی دیتی ہوں گی؟ اس کا جواب ہے: بالکل نہیں۔آج ہم آپ کو دنیا کے سب سے اونچے ریلوے اسٹیشن کی سیر کراتے ہیں، جو اتنی بلندی پر واقع ہے کہ وہاں رکنا تو دور، سانس لینا بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

سطحِ سمندر سے 16 ہزار فٹ اوپر کا عجوبہ

دنیا کے سب سے اونچے ریلوے اسٹیشن کا اعزاز چین کے تبت خطے میں واقع تانگ گولا (Tanggu la) ریلوے اسٹیشن کو حاصل ہے۔ یہ چِنگھائی–تبت ریلوے لائن پر بنایا گیا ہے۔ اس کی بلندی جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ یہ اسٹیشن سطحِ سمندر سے 5,068 میٹر (تقریباً 16,627 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے۔ موازنہ کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ بلندی دنیا کی کئی بلند پہاڑی چوٹیوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس سے قبل بولیویا کا کونڈو اسٹیشن سب سے اونچا سمجھا جاتا تھا، لیکن تانگ گولا نے اسے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

بھوتیا نہیں، مگر بالکل سنسان

عام ریلوے اسٹیشنوں پر گارڈ، قلی اور مسافروں کی چہل پہل ہوتی ہے، مگر تانگ گولا اسٹیشن پر آپ کو ایک بھی ملازم نظر نہیں آئے گا۔ اس کی وجہ وہاں کی جان لیوا سردی اور آکسیجن کی شدید کمی ہے۔ یہاں درجۂ حرارت اکثر صفر سے کئی ڈگری نیچے رہتا ہے۔ اتنی بلندی پر انسان کا زیادہ دیر تک رکنا محفوظ نہیں، اسی لیے پورا اسٹیشن آٹومیٹک کنٹرول سسٹم پر چلتا ہے اور مشینیں ہی اس کی نگرانی کرتی ہیں۔

نہ ختم ہونے والا پلیٹ فارم

اس پہاڑی اسٹیشن کی ایک اور خاص بات اس کا بے حد لمبا پلیٹ فارم ہے، جس کی لمبائی 1.25 کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے۔ اتنی بڑی جگہ اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ لمبی مال گاڑیاں اور مسافر ٹرینیں آسانی سے رک سکیں۔ یہاں سے نظر آنے والی برف سے ڈھکی سفید وادیاں کسی خواب کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔

ٹرین میں آکسیجن، مگر پلیٹ فارم پر اترنا منع

جب ٹرین تانگ گولا اسٹیشن سے گزرتی ہے تو مسافروں کی حفاظت کے لیے خاص انتظامات کیے جاتے ہیں۔ چونکہ یہاں ہوا میں آکسیجن بہت کم ہوتی ہے، اس لیے ٹرین کی ہر نشست پر آکسیجن پلگ لگے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھڑکیوں پر خاص کوٹنگ کی گئی ہے تاکہ سورج کی خطرناک الٹرا وائلٹ شعاعوں سے مسافروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اگرچہ ٹرین اس اسٹیشن پر رکتی ہے، لیکن کسی بھی مسافر کو پلیٹ فارم پر اترنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اتنی بلندی پر اچانک اترنے سے الٹی ٹیوڈ سکنس ہو سکتی ہے، جس سے چکر آنا یا بے ہوشی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Alliance:ملک اور یوپی کا مسلمان تمہاری ذاتی جاگیر نہیں، انڈیا اتحاد پر برسے اسدالدین اویسی

اپوزیشن پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا، سماج وادی پارٹی کے لوگوں اور تمہارے…

16 minutes ago

RBI MPC’s three-day meeting begins: آر بی آئی کی ایم پی سی کی 3 روزہ میٹنگ شروع، 7 اکتوبر کو شرح سود پر ہوگا فیصلہ

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی،…

1 hour ago

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

3 hours ago