قومی

PM Modi targets Opposition at SRCC: ایس آر سی سی کی صد سالہ تقریب میں پی ایم مودی کا اپوزیشن پر نشانہ، بولے- 2013 میں مایوسی اور پالیسی مفلوجی کے دور میں تھا ملک

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر کو دہلی یونیورسٹی کے شری رام کالج آف کامرس (ایس آر سی سی) کی صد سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کالج کے سابق طلبہ کی کامیابیوں کی تعریف کی اور ساتھ ہی 2013 کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے اس وقت کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک مایوسی، بدعنوانی اور پالیسی مفلوجی کے دور سے گزر رہا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایس آر سی سی کے سابق طلبہ نے دنیا بھر میں ادارے کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی زبان استعمال کرتے ہوئے کہا، ’’ایس آر سی سی کے ایلومنائی حقیقی ’او جی‘ ہیں۔ انہوں نے ہر شعبے میں اپنی الگ شناخت بنائی ہے۔‘‘

انہوں نے سابق مرکزی وزیر ارون جیٹلی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ شاید ہی کوئی ایسی ملاقات ہوتی تھی جس میں جیٹلی ایس آر سی سی کے دنوں کا کوئی واقعہ شیئر نہ کرتے ہوں۔ پی ایم مودی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ کئی مرتبہ وہ انہیں وہی واقعات بار بار سنایا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹیم کے رکن سنجیو سانیال بھی ایس آر سی سی کے سابق طالب علم ہیں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ایس آر سی سی نے صرف اقتصادیات کے شعبے میں ہی نہیں بلکہ فن، سیاست، قانون اور عدلیہ سمیت مختلف شعبوں میں ملک کو متعدد معروف شخصیات دی ہیں۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا، ’’بہت بڑے ماہر نہ ہوں، لیکن دھوم ضرور مچائی ہے۔‘‘

2013 کی تقریر کا ایک بار پھر ذکر

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ان کی 2013 کی ایس آر سی سی تقریر کافی زیر بحث ہے۔ لوگوں نے اس تقریر کو دوبارہ سنا اور پڑھا، جبکہ نئی نسل نے بھی اسے دوبارہ دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریر کا اثر آج بھی 13-14 سال بعد محسوس کیا جا رہا ہے۔ اپنے خطاب میں پی ایم مودی نے کہا کہ ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والا ایک ’’گینگ‘‘ سرگرم رہتا ہے، اس لیے وہ پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے 2013 کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوجیوں کی شہادت کی خبریں سرخیوں میں رہتی تھیں، عالمی بینک نے ہندوستان کی جی ڈی پی شرح نمو کا اندازہ کم کر دیا تھا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا اور مہنگائی تقریباً 10 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس دور میں صنعتی شعبہ کساد بازاری کی زد میں تھا، ہیلی کاپٹر سودے میں بدعنوانی سامنے آئی تھی اور حیدرآباد میں بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق اس وقت ملک میں شرح نمو نچلی سطح پر تھی، جبکہ مہنگائی اور گھوٹالے عروج پر تھے۔ معیشت بحران میں تھی، پالیسی مفلوجی کی بات ہر طرف ہو رہی تھی اور دنیا ہندوستان کو ’’فریجائل فائیو‘‘ ممالک میں شمار کر رہی تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت ملک ہر محاذ پر جدوجہد کر رہا تھا اور چاروں طرف مایوسی اور ناامیدی کا ماحول تھا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

6 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

6 hours ago