نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مختلف اہم شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا فون آیا۔ ہم نے بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو اہم شعبوں میں مزید گہرا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘ وزیراعظم نے امریکی نائب صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیٹے کی پیدائش پر مبارکباد بھی دی۔ مودی نے اپنی پوسٹ میں کہا، ’’میں نے انہیں اور سیکنڈ لیڈی کو ان کے بیٹے کی پیدائش پر دلی مبارکباد دی اور پورے خاندان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔‘‘
Received a phone call from US Vice President JD Vance. We discussed ways to further deepen India-US Comprehensive Global Strategic Partnership across key areas.
Warmly congratulated him and the Second Lady on the birth of their son and conveyed best wishes to the entire family.…
— Narendra Modi (@narendramodi) August 8, 2026
آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر امریکی منصوبہ
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینس نے ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک راستہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ فاکس نیوز کی میزبان کیلی میک اینانی کے پروگرام ’سیٹرڈے اِن امریکہ‘ میں بات کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ اس منصوبے میں ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی شامل ہے۔ ان کے مطابق تہران نے واشنگٹن کو بتایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی زیادہ سے زیادہ ترسیل کی اجازت دے گا، تاہم امریکہ کو اس پر ’’اعتماد نہیں‘‘ ہے۔ وینس نے کہا ’’ہم ایرانیوں سے بات کر رہے ہیں۔ ہم یقیناً آبنائے ہرمز سے نکلنے والے تیل اور گیس کی مقدار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف کی تجویز
دوسری جانب امریکی سینیٹ نے جمعہ کو دو طرفہ حمایت سے ایک بل منظور کیا ہے، جس کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارت اور چین سمیت روسی تیل اور گیس درآمد کرنے والے ممالک کی اشیا پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔ سینیٹ نے ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘ کو 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کیا۔ اس قانون کا مقصد روس اور ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا اور ان ممالک کو نشانہ بنانا ہے جو ماسکو کے ساتھ بڑے پیمانے پر توانائی کا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مجوزہ قانون کے تحت امریکی صدر کو دنیا میں روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ سب سے بڑے خریدار ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر اپنی صوابدید کے مطابق 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
بھارت نے توانائی کی خریداری کو قومی مفاد سے جوڑا
قانون سازی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، اعلیٰ سیاسی و فوجی عہدیداروں، مالیاتی اداروں، توانائی کے منصوبوں اور روس کی جنگی سرگرمیوں سے منسلک اداروں کے خلاف نئی پابندیوں کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان پرانے اور دوبارہ پرچم لگائے گئے تیل بردار جہازوں کو بھی امریکی پابندیوں کے دائرے میں لانے کی تجویز ہے، جن کے بارے میں الزام ہے کہ انہیں عالمی پابندیوں سے بچنے اور روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قانون سازی کا وسیع تر مقصد روسی معیشت اور اس کی فوجی کارروائیوں کی مالی معاونت کرنے والے ذرائع کو محدود کرنا ہے۔ بھارت روسی خام تیل کے دنیا کے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ روس-یوکرین تنازع شروع ہونے کے بعد 2022 میں بھارت نے رعایتی روسی خام تیل کی خرید میں اضافہ کیا تھا تاکہ عالمی منڈی میں اتھل پتھل کے دوران اپنی توانائی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ بھارت کا مؤقف رہا ہے کہ روس سے توانائی کی خریداری کی حکمت عملی قومی مفاد، توانائی کے تحفظ اور شہریوں کے لیے سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی کی ضرورت کے تحت طے کی جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…