قومی

PM Modi speaks to JD Vance: وزیراعظم مودی نے جے ڈی وینس سے فون پر کی بات، بھارت-امریکہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے فون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مختلف اہم شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا فون آیا۔ ہم نے بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو اہم شعبوں میں مزید گہرا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘ وزیراعظم نے امریکی نائب صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیٹے کی پیدائش پر مبارکباد بھی دی۔ مودی نے اپنی پوسٹ میں کہا، ’’میں نے انہیں اور سیکنڈ لیڈی کو ان کے بیٹے کی پیدائش پر دلی مبارکباد دی اور پورے خاندان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔‘‘

آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر امریکی منصوبہ

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینس نے ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک راستہ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ فاکس نیوز کی میزبان کیلی میک اینانی کے پروگرام ’سیٹرڈے اِن امریکہ‘ میں بات کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ اس منصوبے میں ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی شامل ہے۔ ان کے مطابق تہران نے واشنگٹن کو بتایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی زیادہ سے زیادہ ترسیل کی اجازت دے گا، تاہم امریکہ کو اس پر ’’اعتماد نہیں‘‘ ہے۔ وینس نے کہا ’’ہم ایرانیوں سے بات کر رہے ہیں۔ ہم یقیناً آبنائے ہرمز سے نکلنے والے تیل اور گیس کی مقدار کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف کی تجویز

دوسری جانب امریکی سینیٹ نے جمعہ کو دو طرفہ حمایت سے ایک بل منظور کیا ہے، جس کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارت اور چین سمیت روسی تیل اور گیس درآمد کرنے والے ممالک کی اشیا پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل سکتا ہے۔ سینیٹ نے ’لنڈسے او گراہم سینکشننگ رشیا اینڈ ایران ایکٹ 2026‘ کو 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کیا۔ اس قانون کا مقصد روس اور ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا اور ان ممالک کو نشانہ بنانا ہے جو ماسکو کے ساتھ بڑے پیمانے پر توانائی کا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مجوزہ قانون کے تحت امریکی صدر کو دنیا میں روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ سب سے بڑے خریدار ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر اپنی صوابدید کے مطابق 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

بھارت نے توانائی کی خریداری کو قومی مفاد سے جوڑا

قانون سازی میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، اعلیٰ سیاسی و فوجی عہدیداروں، مالیاتی اداروں، توانائی کے منصوبوں اور روس کی جنگی سرگرمیوں سے منسلک اداروں کے خلاف نئی پابندیوں کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان پرانے اور دوبارہ پرچم لگائے گئے تیل بردار جہازوں کو بھی امریکی پابندیوں کے دائرے میں لانے کی تجویز ہے، جن کے بارے میں الزام ہے کہ انہیں عالمی پابندیوں سے بچنے اور روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قانون سازی کا وسیع تر مقصد روسی معیشت اور اس کی فوجی کارروائیوں کی مالی معاونت کرنے والے ذرائع کو محدود کرنا ہے۔ بھارت روسی خام تیل کے دنیا کے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ روس-یوکرین تنازع شروع ہونے کے بعد 2022 میں بھارت نے رعایتی روسی خام تیل کی خرید میں اضافہ کیا تھا تاکہ عالمی منڈی میں اتھل پتھل کے دوران اپنی توانائی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔ بھارت کا مؤقف رہا ہے کہ روس سے توانائی کی خریداری کی حکمت عملی قومی مفاد، توانائی کے تحفظ اور شہریوں کے لیے سستی اور قابلِ اعتماد توانائی کی فراہمی کی ضرورت کے تحت طے کی جاتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

2 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

2 hours ago