لاس اینجلس: امریکہ کی ریاست یوٹا کے وسطی علاقے میں جنگلات کی آگ بجھانے کے آپریشن میں مصروف ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے کا شکار ہونے سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام نے ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق اس کی تصدیق کی۔ اس سے قبل دو افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ یہ ہیلی کاپٹر جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے جاری ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن کا حصہ تھا۔ ریاست میں رواں سال کی سب سے شدید جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے۔ امریکہ کے نیشنل انٹرایجنسی فائر سینٹر کے مطابق، امریکی فاریسٹ سروس کے معاہدے کے تحت کام کرنے والا ایک ہیلی کاپٹر وائڈ ماؤتھ 2 فائر کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ حادثے میں پائلٹ اور عملے کے ایک رکن کی موت ہوگئی۔ دونوں کی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
سیکورسکی ایس-64 ہیلی کاپٹر رچ فیلڈ کے قریب گرا
خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے بتایا کہ سیکورسکی ایس-64 ماڈل کا یہ ہیلی کاپٹر جمعہ کی صبح تقریباً 10 بجے مقامی وقت کے مطابق رچ فیلڈ کے قریب حادثے کا شکار ہوا۔ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ حادثے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق فائر فائٹنگ آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر نامعلوم وجوہات کی بنا پر علاقے میں گر گیا۔ مقامی حکام نے بتایا کہ آگ اور دشوار گزار علاقے کے باعث امدادی ٹیمیں ابتدائی طور پر جائے حادثہ پر موجود ملبے تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں۔
حادثے کے بعد علاقے میں نئی آگ بھڑک اٹھی
فائر حکام کے مطابق حادثے کے بعد علاقے میں ایک نئی آگ بھی بھڑک اٹھی، جس سے جائے حادثہ تک پہنچنے کا راستہ مزید مشکل ہوگیا اور امدادی کارکنوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔ یوٹا کے گورنر اسپینسر کاکس نے کہا کہ یہ حادثہ جنگلات کی آگ بجھانے کے کام میں موجود خطرات کی ایک سنگین یاد دہانی ہے۔ کاکس نے ایک بیان میں کہا، ’’جنگلات میں لگی آگ بجھانا دنیا کے خطرناک ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ آج کا دن اس بات کی تکلیف دہ یاد دہانی ہے کہ یہ بہادر لوگ ہماری حفاظت کے لیے کتنے بڑے خطرات مول لیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ تحقیقات کرنے والی ٹیموں اور ہنگامی امداد میں مصروف اہلکاروں کو کام کے لیے وقت اور جگہ فراہم کریں۔
وائڈ ماؤتھ 2 فائر نے 1.14 لاکھ ایکڑ سے زیادہ علاقہ جلایا
وائڈ ماؤتھ 2 فائر کا آغاز 27 جولائی کو اس وقت ہوا تھا جب سینٹرل یوٹا کے ایک چھوٹے سے علاقے کَنوش کے قریب فش لیک نیشنل فاریسٹ میں آسمانی بجلی گرنے سے خشک لکڑی، جھاڑیوں اور گھاس میں آگ لگ گئی۔ خشک موسم، شدید گرمی اور بے قاعدہ ہواؤں کے دوران آگ تیزی سے پھیل گئی، جس کے نتیجے میں آس پاس کے علاقوں سے لوگوں کو نکالنا پڑا اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق کم از کم چھ عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔ یوٹا فائر انفارمیشن کے مطابق، جو بین المحکماتی عوامی معلومات کا ذریعہ ہے، آگ اب تک 1,14,000 ایکڑ سے زیادہ یعنی تقریباً 461 مربع کلومیٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ حکام نے اب تک تقریباً 24 فیصد آگ پر قابو پالیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…