نئی دہلی: نریندر مودی نے بدھ کے روز ویتنام کے صدر تو لام سے حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ اور عالمی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ یہ ملاقات ویتنامی صدر کے بھارت کے پہلے سرکاری دورے کا اہم حصہ ہے، جس کا باقاعدہ آغاز صبح راشٹرپتی بھون میں شاندار استقبالیہ تقریب سے ہوا۔ صدر تو لام کا استقبال دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی نے کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ تقریب کے دوران بچوں نے روایتی لباس میں دونوں ممالک کے جھنڈے لہرا کر ثقافتی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، جس نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔
بودھ گیا سے دہلی تک دورے کی جھلکیاں
صدر تو لام منگل کو بھارت پہنچے اور اپنے دورے کا آغاز مہابودھی مندر، بودھ گیا سے کیا، جہاں انہوں نے عبادت کی۔ انہیں بہار میں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے خوش آمدید کہا، جبکہ دہلی پہنچنے پر مرکزی وزیر مملکت نتیانند رائے نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم مودی اور صدر تو لام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دفاع، معیشت، تجارت اور علاقائی و عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے بھی ویتنامی صدر سے ملاقات کی اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق، یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ بھارت اور ویتنام اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے دس سال مکمل کر رہے ہیں۔
ممبئی دورہ اور معاشی روابط پر توجہ
صدر تو لام اپنے دورے کے دوران ممبئی بھی جائیں گے، جہاں وہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں بزنس فورم میں شرکت کریں گے اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کریں گے۔ بھارت اور ویتنام کے درمیان تاریخی اور تہذیبی تعلقات اب ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں، اور صدر تو لام کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھولنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…