نئی دہلی : خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل لوک سبھا میں منظور نہ ہونے کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ جمعہ 17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں اس بل پر اتفاق رائے نہ بن سکا جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ حکومت اس بل کو خواتین کے حقوق اور ان کی سیاسی شمولیت بڑھانے کے لیے اہم قدم قرار دے رہی تھی، جبکہ اپوزیشن کے سخت موقف کے باعث یہ بل منظور نہیں ہو سکا۔اس معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کا پہلا ردعمل تمل ناڈو میں ایک انتخابی ریلی کے دوران سامنے آیا۔ انہوں نے اسٹیج سے اپوزیشن جماعتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے خاص طور پر کانگریس اور ڈی ایم کے کو بل کے رکنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر یہ بل منظور ہو جاتا تو ملک کی لاکھوں خواتین کو براہ راست فائدہ پہنچتا اور ان کی سیاسی شمولیت مزید مضبوط ہوتی۔
وزیر اعظم مودی نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے خود تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بل کی حمایت کریں۔ ان کے مطابق انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر کوئی جماعت اس کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے تو وہ لے سکتی ہے، لیکن اصل مقصد صرف یہی تھا کہ عام خاندانوں کی زیادہ سے زیادہ خواتین پارلیمنٹ اور اسمبلیوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سنجیدہ ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی۔وزیر اعظم مودی نے الزام لگایا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے سیاسی وجوہات کی بنیاد پر اس کوشش کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور ڈی ایم کے نے اس “نیک نیتی پر مبنی قدم” کو آگے بڑھنے سے روک دیا، جو بدقسمتی کی بات ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ بل پاس ہو جاتا تو تمل ناڈو سمیت کئی ریاستوں کی خواتین کو نمائندگی کا بڑا موقع ملتا۔
وزیر اعظم مودی نے مزید دعویٰ کیا کہ 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر اگر پارلیمانی نشستوں کی ازسرنو تقسیم کی جاتی تو تمل ناڈو کو مزید نشستیں مل سکتی تھیں، جس سے خواتین کی نمائندگی میں بھی اضافہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے خواتین کی سیاسی شرکت کو نئی سمت مل سکتی تھی اور ملک کی جمہوریت مزید مضبوط ہوتی۔واضح رہے کہ حکومت پہلے ہی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے کا وعدہ کر چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اب اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے متبادل راستوں پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ خواتین کی نمائندگی کو بڑھایا جا سکے۔وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رہے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت خواتین کی سیاسی شمولیت کو بڑھانے کے لیے نئے اقدامات بھی کر سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نوراتری کے دوران مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش میں پیش آنے والے…
مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ 5 ٹولز روزمرہ کے کام آسان بنانے میں مددگار ثابت…
وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت ہر مہلوک کے خاندان کو…
فرانس اور اسپین میں ہونے والی تحریکوں سے متاثر ہوکر ان دنوں اٹلی میں مختلف…
تاریخی شیتلا ماتا مندر میں نوراتری کے دوران لاکھوں عقیدت مند درشن کے لیے پہنچتے…
کولکاتا درگا پوجا پنڈال حادثے پر پی ایم مودی اور امت شاہ نے تعزیت کا…