بھارت میں خواتین کی صحت کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک گیر ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا ہے، جسے بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ بنانے کی سمت ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ راجستھان کے شہر اجمیر سے شروع کی گئی اس قومی مہم کو عالمی سطح پر بھی زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے اس اقدام کی کھل کر تعریف کی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی یہ مہم بھارت میں خواتین میں تیزی سے پھیلنے والے بچہ دانی کے منہ کے کینسر، یعنی سروائیکل کینسر کے خاتمے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔ افتتاحی تقریب کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ملک کی بیٹیوں کی صحت اور محفوظ مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور یہ پروگرام آنے والی نسلوں کو ایک جان لیوا بیماری سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم مودی اور بھارتی وزارتِ صحت کو اس جرات مندانہ فیصلے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کو سروائیکل کینسر جیسی قابلِ انسداد بیماری سے محفوظ بنانے کے لیے قومی سطح پر ویکسینیشن پروگرام شروع کرنا ایک مثالی اقدام ہے اور عالمی ادارۂ صحت اس بیماری کے خاتمے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
حکومت کے مطابق اس مہم کے تحت ہر سال ملک کی تقریباً ایک کروڑ پندرہ لاکھ چودہ سالہ لڑکیوں کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔ یہ ویکسین تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سرکاری صحت مراکز، آیوشمان آروگیہ مندروں، پرائمری ہیلتھ سینٹروں، کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں اور ضلعی اسپتالوں میں مکمل طور پر مفت دستیاب ہوگی۔ ابتدائی تین ماہ تک اس پروگرام کو مشن موڈ میں چلایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچیوں کو جلد از جلد حفاظتی ٹیکے لگائے جا سکیں، جس کے بعد اسے معمول کے قومی ٹیکہ کاری پروگرام میں شامل کر دیا جائے گا۔ حکومت نے ویکسینیشن کے عمل کو محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے سخت رہنما اصول بھی جاری کیے ہیں۔ ٹیکہ لگانے سے قبل والدین یا سرپرست کی باقاعدہ رضامندی لینا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ہر ویکسینیشن سیشن کی نگرانی تربیت یافتہ طبی افسران کریں گے۔ کسی بھی نایاب طبی ردِعمل سے نمٹنے کے لیے تمام مراکز پر طبی سہولیات اور مؤثر کولڈ چین نظام کو یقینی بنایا گیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بھارت میں خواتین میں کینسر سے ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات میں سروائیکل کینسر شامل ہے، جس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ بروقت ایچ پی وی ویکسین ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمری میں ویکسینیشن مستقبل میں اس بیماری کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔ اجمیر سے شروع ہونے والی یہ قومی مہم بھارت کی صحت پالیسی میں ایک سنگِ میل تصور کی جا رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے کی گئی ستائش اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت عوامی صحت کے عالمی معیار تک پہنچنے اور خواتین کی فلاح و بہبود کو مضبوط بنانے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…