مغربی بنگال کے جادوپور علاقے میں منعقد ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بنگال میں تبدیلی کی لہر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار عوام بی جے پی کو بھرپور حمایت دینے کے لیے تیار ہیں اور ریاست میں سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ وزیر اعظم نے ریلی میں موجود ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود عوام کی بڑی تعداد کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”آپ لوگوں کا یہ جذبہ اور محنت رائیگاں نہیں جائے گی، ہم ترقی کے ذریعے آپ کو سود سمیت جواب دیں گے“۔ ان کے اس بیان پر مجمع نے زوردار تالیاں بجا کر ردعمل دیا۔ اپنے خطاب میں نریندر مودی نے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد ایسا جوش و خروش پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے ہر طبقے، چاہے وہ چھوٹے دکاندار ہوں یا بڑے تاجر، ٹیکسی ڈرائیور ہوں یا رکشہ چلانے والے، سب بی جے پی کے حق میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری ملازمین، اساتذہ، وکلا، ڈاکٹروں اور حتیٰ کہ پولیس اہلکار بھی ایک ”روشن بنگال“ کے لیے تبدیلی چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے دوران ٹی ایم سی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ گزشتہ 15 برسوں میں ریاست میں بدعنوانی نے جڑیں مضبوط کی ہیں۔ انہوں نے مختلف مبینہ گھوٹالوں جیسے اساتذہ بھرتی اسکینڈل، چٹ فنڈ گھوٹالہ، کوئلہ اور ریت کی غیر قانونی کان کنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے وسائل کو لوٹا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غریبوں کے لیے مختص راشن بھی محفوظ نہیں رہا اور ”کٹ منی“ اور کمیشن کی سیاست نے عوام میں شدید ناراضگی پیدا کی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے موضوع پر وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی خواتین کی ترقی اور خود انحصاری کے لیے پرعزم ہے اور ہر سرکاری اسکیم میں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ میں خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر ٹی ایم سی اور اس کے اتحادیوں نے مخالفت کی، جبکہ ملک کی خواتین زیادہ نمائندگی کی خواہاں ہیں۔
اپنی تقریر کے دوران نریندر مودی نے جادوپور یونیورسٹی کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب اس یونیورسٹی کا نام عالمی سطح پر عزت و احترام سے لیا جاتا تھا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ ان کے مطابق تعلیمی ماحول متاثر ہوا ہے اور طلبہ کو احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے، جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی بنگال میں امن، ترقی اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق ریاست کو دوبارہ ملک کی ترقی یافتہ ریاستوں کی صف میں شامل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کی حکومت بننے پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں گے اور بنیادی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
ریلی کے اختتام پر وزیر اعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کے انتخابی نشان ”کنول“ پر ووٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ووٹ صرف حکومت بدلنے کے لیے نہیں بلکہ ریاست کو تشدد، خوف اور بدانتظامی سے نجات دلانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر بی جے پی کو موقع ملا تو وہ بنگال کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، جادوپور کی اس ریلی نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں ریاست میں سیاسی سرگرمیاں مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ عوام کس جماعت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور بنگال کی سیاست کس رخ پر آگے بڑھتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…