قومی

AAP Rajya Sabha Revolt: راگھو چڈھا نے جس اشوک مِتّل کے لیے چھوڑی تھی کرسی، انہی کے ساتھ مل کر ‘عآپ’ کو دیا سب سے بڑا زخم!

سیاست میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا، لیکن آج عام آدمی پارٹی (AAP) کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے اس قول کو ایک نئی گہرائی دے دی ہے۔ محض 22 دن پہلے جس راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا میں ڈپٹی لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر اشوک مِتّل کو ذمہ داری دی گئی تھی، آج انہی دونوں لیڈروں نے ہاتھ ملا کر اروند کیجریوال کے سیاسی “سلطنت” کی بنیاد ہلا دی ہے۔ راجیہ سبھا میں ‘عآپ’ کے دو تہائی ارکان کی یہ بغاوت صرف ایک پارٹی تبدیلی نہیں بلکہ اندرونی سطح پر مہینوں سے سلگتی ہوئی آگ کا نتیجہ ہے، جو آج ایک بڑے “انفجار” کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

ڈپٹی لیڈر سے ہٹائے جانے کے بعد فاصلے بڑھے

2 اپریل 2026 کو عام آدمی پارٹی نے اچانک راگھو چڈھا کو ان کے پارلیمانی عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس وقت اسے ایک معمول کی کارروائی قرار دیا گیا، لیکن ان کی خاموشی اور اروند کیجریوال کی ریلیوں سے دوری نے واضح کر دیا تھا کہ اندرونی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق پارٹی کے سب سے نوجوان اور پڑھے لکھے چہروں میں سے ایک کو اس طرح نظر انداز کرنا راگھو چڈھا کے لیے ناگوار ثابت ہوا۔ آج انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ “غلط پارٹی میں صحیح شخص” تھے اور اب وہ ایسی قیادت کے ساتھ ہیں جہاں قابلیت کی قدر کی جاتی ہے۔

AAP کے دو مضبوط ستونوں کا ساتھ چھوڑنا

اس بغاوت کا سب سے حیران کن پہلو اشوک اور سندیپ پاٹھک کا اس کے ساتھ کھڑا ہونا بتایا جا رہا ہے۔ سنیپ پاٹھک، جنہیں پارٹی کا “چانکیہ” کہا جاتا تھا اور جنہوں نے پنجاب میں پارٹی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا، ان کا ساتھ چھوڑنا کیجریوال کے لیے بڑا جھٹکا سمجھا جا رہا ہے۔ وہیں اشوک مِتّل، جنہیں راگھو کی جگہ ڈپٹی لیڈر بنایا گیا تھا، انہوں نے بھی مبینہ طور پر راگھو کے منصوبے کو ترجیح دی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اختلافات کتنے گہرے تھے۔

قانونی حکمتِ عملی اور سیاسی اثرات

اطلاعات کے مطابق راجیہ سبھا میں 10 ارکان میں سے 7 کے ایک ساتھ جانے سے یہ صورتحال پیدا ہوئی کہ ان پر انحراف مخالف قانون (Anti-Defection Law) کا اطلاق نہیں ہو سکے گا۔ اس اقدام نے پارٹی کو قانونی طور پر بھی کمزور کر دیا ہے۔

اب راجیہ سبھا میں عآپ ایک چھوٹے گروپ کی شکل اختیار کر گئی ہے، جبکہ سیاسی توازن میں تبدیلی کے بعد بی جے پی کو برتری حاصل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

راگھو چڈھا کا بیان

پریس کانفرنس میں راگھو چڈھا نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی 15 سال جس تنظیم کو دیے، وہ اب مبینہ طور پر اپنے اصولوں سے ہٹ چکی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی اب ذاتی مفادات تک محدود ہو گئی ہے۔انہوں نے وزیر اعظم اور مرکزی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب ملک کی ترقی کے مشن کا حصہ بنیں گے۔یہ پورا معاملہ نہ صرف ایک سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ ایک بڑی اندرونی دراڑ کے طور پر بھی، جس نے پارٹی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Sunil Lodhi Undergo Eye Treatment: ہنومان انش کے گلوکار کی آنکھوں کا ہوگا علاج، فلم کی پروڈیوسر اٹھائیں گی خرچ

انوپریا نے کہا کہ سنیل لوگوں کی محبت کو محسوس تو کر سکتے ہیں، لیکن…

21 minutes ago

Amit Shah to Launch LNG-Powered Train: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ آج کریں گے ملک کی پہلی ایل این جی ٹرین کا افتتاح

بھارتی ریلوے کی جانب سے ایل این جی ڈوئل فیول ٹیکنالوجی اپنانا ایندھن کی کارکردگی…

22 minutes ago

Torrential Rain Warning Issued for Uttarakhand: اتراکھنڈ میں موسلا دھار بارش کی وارننگ، چار دھام یاترا پر روک، کئی اضلاع میں ریڈ الرٹ

اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ…

52 minutes ago

Ghulam Nabi Azad: سی ای سی گیانیش کمار پر غلام نبی آزاد کا بیان، اپوزیشن کا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ غلط نہیں

غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…

1 hour ago

Russia support India in UN: بہت ہو چکے مغربی ممالک، روس نے اقوام متحدہ میں بھارت کی ویٹو پاور کی کردی حمایت

روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس…

2 hours ago

Ganga Expressway Fully Operational: گنگا ایکسپریس وے مکمل طور پر فعال، اناؤ میں ایک ریمپ کے علاوہ کہیں پانی جمع نہیں

موجودہ بارش معمول کی بارش نہیں ہے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر عام…

3 hours ago