نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں آج شام ’انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو 2026‘ کا باوقار افتتاح عمل میں آیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا اور بعد ازاں مختلف پویلینز اور اسٹالز کا دورہ کرتے ہوئے اسٹارٹ اپس کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا۔ یہ میگا ایونٹ 16 سے 20 فروری تک جاری رہے گا جبکہ اس کے ساتھ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ بھی منعقد کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ہندوستان کو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کا اہم مرکز بنانا ہے۔ افتتاحی خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ 1.4 ارب آبادی والا ہندوستان مصنوعی ذہانت کی تبدیلی کے دور میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، تیزی سے فروغ پاتا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم اور جدید تحقیقی صلاحیتیں ملک کو اے آئی کے میدان میں قیادت فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سمٹ کا مرکزی موضوع ”سروجن ہتائے، سروجن سکھائے“ ہے، جو اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ اے آئی کو انسانیت کی فلاح اور مساوی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ایکسپو تقریباً 70 ہزار مربع میٹر رقبے پر محیط ہے اور اسے دس مختلف میدانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں تین مرکزی تھیم— پیپل، پلانیٹ اور پروگریس — کے تحت 300 سے زائد منتخب نمائش پویلینز اور لائیو ڈیمونسٹریشنز پیش کی جا رہی ہیں۔ 600 سے زیادہ ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس اپنی جدید اے آئی مصنوعات اور حقیقی زندگی میں قابل عمل حل پیش کر رہے ہیں، جبکہ 850 سے زائد نمائش کنندگان اپنی ٹیکنالوجی اور سروسز کی نمائش کر رہے ہیں۔ پانچ سو سے زیادہ سیشنز میں 3,250 سے زائد ماہرین اور مقررین شرکت کر رہے ہیں اور اندازہ ہے کہ ڈھائی لاکھ سے زیادہ زائرین اس تقریب میں شریک ہوں گے۔
اس عالمی نوعیت کے پروگرام میں 65 ممالک شرکت کر رہے ہیں اور 13 ممالک نے خصوصی قومی پویلین قائم کیے ہیں، جن میں آسٹریلیا، جاپان، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، سوئٹزرلینڈ، سربیا، ایسٹونیا، تاجکستان اور متعدد افریقی ممالک شامل ہیں۔ کئی عالمی لیڈر بھی اس موقع پر نئی دہلی پہنچ رہے ہیں، جن میں بولیویا کے نائب صدر ایڈمنڈ لارا مونٹانو، گیانا کے ڈاکٹر بھارت جگدیو، سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے اور سربیا کے صدر الیگزینڈر ووشیچ شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کی سرکردہ شخصیات بھی اس سمٹ کا حصہ ہیں، جن میں سندر پچائی، سیم آلٹمین اور مکیش امبانی شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے ریلائنس جیو کے پویلین کا بھی دورہ کیا، جہاں آکاش امبانی نے جیو کے اے آئی ایکو سسٹم اور ڈیجیٹل اختراعات کے بارے میں تفصیلات پیش کیں۔
ایکسپو کا ایک اہم پہلو روزگار کے مواقع میں اضافہ ہے۔ منتظمین کے مطابق اے آئی کو ملازمتیں ختم کرنے کے بجائے نئی مہارتوں اور روزگار کے دروازے کھولنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ عالمی سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ اور تحقیق و ترقی میں تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔ ہندوستان پہلی بار گلوبل ساؤتھ میں اس پیمانے کا اے آئی سمٹ منعقد کر رہا ہے، جس سے اے آئی گورننس اور بین الاقوامی تعاون کے لیے مشترکہ روڈ میپ تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ پروگرام حکومت کے قومی اے آئی مشن کو تقویت دے گا، جسے 2024 میں 10,300 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ایکسپو پالیسی سازی، اختراع اور بڑے پیمانے پر عمل درآمد کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ہندوستان کے ٹیکنالوجیکل مستقبل کو نئی سمت دے گا۔ 17 فروری سے یہ نمائش عام عوام کے لیے بھی کھول دی جائے گی، جس سے نوجوانوں اور طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے براہ راست روشناس ہونے کا موقع ملے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یوپی اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے سماج وادی پارٹی نے لکھنؤ میں اپنے دفتر کے…
سکندرآباد میں جنوبی وسطی ریلوے کے حکام نے بتایا، متعلقہ اہلکار کی شناخت تلنگانہ ریاستی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جالھوپور میں واقع قومی فرانزک سائنس یونیورسٹی کا افتتاح بھی…
پی ایم مودی نے کہا، ’’میں آپ تمام نوجوان ساتھیوں اور آپ کے اہل خانہ…
امتحان کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کے بعد طالب علم کی موت ہوگئی۔…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ماحولیات سے متعلق ہر شعبے…