قومی

PM Modi holds Roadshow: کیرالہ انتخابات سے قبل وزیراعظم نریندر مودی کا روڈ شو، بی جے پی کی انتخابی مہم میں آئی تیزی

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ترواننت پورم میں ایک بڑے روڈ شو کے ذریعے کیرالہ اسمبلی انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی مہم کو مزید تقویت دی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان اور حامیوں نے شرکت کی اور سڑکوں کے دونوں جانب جمع ہو کر اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ روڈ شو میں مقامی عوام کے علاوہ بی جے پی کے ریاستی صدر راجیو چندرشیکھر اور وٹیورکاوو حلقے کی امیدوار آر سری لیکھا بھی موجود تھیں، جنہوں نے پارٹی کی انتخابی سرگرمیوں کو مزید جوش و خروش بخشا۔

انتخابی ریلی میں بڑی تبدیلی کا دعویٰ

اس سے قبل دن میں نریندر مودی نے تروولا میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ اس بار کیرالہ میں بی جے پی-این ڈی اے حکومت قائم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے اور عوام کا رجحان واضح طور پر این ڈی اے کے حق میں نظر آ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ’’اس بار کیرالہ میں ایک بڑی تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی اور 4 مئی کو کئی دہائیوں کی بدانتظامی کا خاتمہ ہوگا۔ یہ طے ہے کہ ایل ڈی ایف حکومت کے جانے کا وقت آ چکا ہے اور پہلی بار این ڈی اے حکومت اقتدار میں آئے گی۔‘‘

عوامی حمایت اور کارکنوں کا کردار

مودی نے روڈ شو کے دوران عوام کی بڑی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح لوگ سڑکوں پر نکل کر استقبال کر رہے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست میں بی جے پی کے لیے حمایت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے ’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘ مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کیرالہ کے ہزاروں کارکنان نے اس میں حصہ لیا اور ایک واضح پیغام دیا کہ عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں۔

ترقیاتی کاموں پر زور

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ مرکز کی موجودہ حکومت نے کیرالہ کی ترقی کے لیے پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ فنڈز فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق، سابقہ حکومتوں کے مقابلے میں موجودہ دور میں ریاست کو پانچ گنا زیادہ وسائل دیے گئے ہیں، جس سے ترقیاتی منصوبوں کو فروغ ملا ہے۔ واضح رہے کہ کیرالہ اسمبلی انتخابات 9 اپریل کو منعقد ہوں گے جبکہ نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ ان انتخابات کو ریاست کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں بی جے پی اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دیگر بڑی جماعتیں بھی بھرپور مقابلے کے لیے میدان میں ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، کیرالم میں اس بار مقابلہ کافی سخت ہونے کی توقع ہے اور انتخابی مہم کے آخری مراحل میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Adani Foundation Story: مشرقی اترپردیش میں سماجی تبدیلی کی نئی عبارت لکھ رہا ہے اڈانی فاؤنڈیشن

ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…

2 hours ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

5 hours ago