بین الاقوامی

Attack on Iran’s Bridge: ایران کے برج پر امریکی حملے کی سخت تنقید، چین نے فریقین سے کی سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل

نئی دہلی: ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے بیچ چین نے ایران میں ایک سویلین پل پر امریکی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ چینی حکام نے واضح کیا کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور اس سے خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

چین کا سخت مؤقف اور سفارتی اپیل

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے فوجی اقدامات کو یونائیٹیڈ نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری حاصل نہیں، اس لیے یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام متعلقہ فریق فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ آبی راستہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے نہایت اہم ہے، اور یہاں کسی بھی رکاوٹ کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔

بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں

رپورٹس کے مطابق سینکڑوں کارگو جہاز اس وقت آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ خاص طور پرمتحدہ عرب امارات، یونان اور چین کی شپنگ کمپنیاں اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران تقریباً 670 جہاز اس علاقے میں انتظار کرتے ہوئے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں بڑی تعداد تیل اور گیس لے جانے والے ٹینکروں کی ہے۔

ٹیکنالوجی اور نگرانی کا نظام

جہازوں کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے کے لیے اے آئی ایس (Automatic Identification System) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے، جو جہاز کی رفتار، سمت اور شناخت کے بارے میں مسلسل معلومات فراہم کرتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بعض جہازوں نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر رکھے ہیں۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو یہ صورتحال ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ بیجنگ نے ایک بار پھر تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی بات چیت کے ذریعے امن کی راہ اختیار کریں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2027: ایک ہی گروپ میں بھارت اور پاکستان، 10 اکتوبر کو ہوگا بڑا مقابلہ

ٹورنامنٹ کا آغاز 2 اکتوبر کو سپر سیریز سے ہوگا، جس میں کوالیفائر کی تین…

27 minutes ago

Adani Foundation Story: مشرقی اترپردیش میں سماجی تبدیلی کی نئی عبارت لکھ رہا ہے اڈانی فاؤنڈیشن

ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…

3 hours ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

5 hours ago