بین الاقوامی

American F-15E Strike Eagle fighter: ایران کا امریکی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، جانئے امریکی F-15E اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے کی خصوصیات

نئی دہلی: ایران کی جانب سے امریکی لڑاکا طیارہ مار گرانے کے دعوے کے بعد دنیا بھر کی توجہ ایک بار پھرایف-15 ای اسٹرائیک ایگل پر مرکوز ہو گئی ہے، جو امریکہ کی فضائیہ کے سب سے طاقتور اور قابلِ اعتماد ملٹی رول طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طیارہ نہ صرف فضائی جنگ میں مہارت رکھتا ہے بلکہ زمینی اہداف کو بھی انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل کو پہلی بار 1988 میں امریکی ایئرفورس میں شامل کیا گیا تھا۔ اس طیارے کو خاص طور پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ بیک وقت کئی طرح کے مشنز انجام دے سکے۔ اس میں دو افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جس میں ایک پائلٹ اور دوسرا ویپن سسٹم آفیسر شامل ہوتا ہے، جو پیچیدہ جنگی کارروائیوں کو بہتر انداز میں انجام دینے میں مدد دیتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور آپریشنل صلاحیت

یہ طیارہ ہر موسم اور دن رات کسی بھی وقت پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں جدید ریڈار اور ایویونکس سسٹم نصب ہیں، جن میں اے پی جی-70 ریڈار شامل ہے، جو بیک وقت فضائی اور زمینی اہداف کو ٹریک کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ LANTIRN سسٹم اسے کم بلندی پر پرواز اور اندھیرے یا خراب موسم میں بھی درست حملے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

رفتار، رینج اور جنگی طاقت

کارکردگی کے لحاظ سے ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل انتہائی طاقتور مانا جاتا ہے۔ یہ طیارہ تقریباً 1,875 میل فی گھنٹہ (میک 2.5 سے زیادہ) کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور 60,000 فٹ کی بلندی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی طویل رینج اور زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت اسے دشمن کے علاقے میں گہرائی تک جا کر کارروائی کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس لڑاکا طیارے میں 20 ملی میٹر کی اندرونی گن کے علاوہ AIM-9 Sidewinder اور AIM-120 AMRAAM جیسی جدید میزائلیں نصب کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مختلف قسم کے پریسجن گائیڈڈ اور روایتی بم بھی لے جا سکتا ہے، جو اسے ایک مکمل حملہ آور پلیٹ فارم بناتے ہیں۔ اس طیارے کو امریکی ایرو اسپیس کمپنی Boeing نے تیار کیا ہے۔ ابتدا میں اس کی قیمت تقریباً 31 ملین ڈالر تھی، تاہم جدید اپگریڈ کے بعد یہ بڑھ کر تقریباً 100 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

عالمی تناظر اور حالیہ دعویٰ

ایران کے دعوے کے بعد دفاعی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے جدید طیاروں کی کارکردگی کا انحصار صرف انفرادی طاقت پر نہیں بلکہ مکمل دفاعی نظام، سیٹلائٹ سپورٹ اور انٹیلیجنس نیٹ ورک پر بھی ہوتا ہے۔ فی الحال اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ جدید فضائی دفاعی نظاموں کی مؤثریت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جائے گی، جبکہ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جیسے طیاروں کی حکمت عملی اور استعمال پر بھی نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

7 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

8 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

8 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

9 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

10 hours ago