قومی

PM holds bilateral meeting with Gen Min Aung Hlaing: وزیر اعظم مودی کی میانمار کے قائم مقام صدر جنرل من آنگ لائنگ سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال

چین کے شہر تیانجن میں وزیراعظم نریندر مودی نے میانمار کے قائم مقام صدر اور فوجی سربراہ سینئر جنرل من آنگ لائنگ سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس کے آغاز سے قبل ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، دو طرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کی ملاقات رواں سال اپریل میں بینکاک میں منعقدہ بمسٹیک اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔

میانمار میں انتخابات کا اعلان

میانمار کی فوجی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ طویل عرصے سے وعدہ کیے گئے عام انتخابات 28 دسمبر سے شروع ہوں گے۔ یہ ملک میں گزشتہ تقریباً پانچ برسوں میں پہلی مرتبہ انتخابات ہوں گے۔ یاد رہے کہ 2021 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سو چی کی منتخب جمہوری حکومت کو معزول کر دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم مودی کی چین کے اعلیٰ رہنما سے ملاقات

اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی نے چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کی سکریٹریٹ کے سکریٹری چائی چی سے ملاقات کی اور بھارت-چین تعاون کو مضبوط بنانے اور دوطرفہ سیاسی روابط کو گہرا کرنے پر بات چیت کی۔ اس سے قبل وزیراعظم مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس سے پہلے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی دوطرفہ ملاقات کی۔

اعتماد، احترام اور حساسیت پر مبنی تعلقات

وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت-چین تعلقات کو باہمی اعتماد، احترام اور حساسیت کی بنیاد پر آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کم ہونے کے بعد امن و امان اور تعلقات کے مختلف شعبوں میں پیش رفت کی تعریف کی۔ مودی نے کیلاش مانسروور یاترا کے آغاز اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بارڈر مینجمنٹ پر بھی معاہدہ ہو گیا ہے۔

چینی صدر کا بھارت-چین دوستی پر زور

چینی صدر شی جن پنگ نے ملاقات میں کہا کہ بھارت اور چین کے لیے دوست بننا ’درست انتخاب‘ ہے اور دونوں کے تاریخی و ثقافتی رشتے گہرے ہیں۔ انہوں نے ’ڈریگن اور ہاتھی‘ کی شراکت کو ایک دوسرے کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ دنیا کی دو قدیم تہذیبیں اور سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہونے کے ناطے، دونوں پر خوشحالی، یکجہتی اور ترقی کو فروغ دینے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تجارت، پروازوں اور ویزہ سہولت پر پیش رفت

حال ہی میں بھارت اور چین نے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں اتراکھنڈ کے لپولیک پاس، ہماچل پردیش کے شپکی لا پاس اور سکم کے ناتھو لا پاس کے ذریعے تجارت کی بحالی شامل ہے۔ 18 اور 19 اگست کو چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے دورۂ بھارت کے دوران دونوں ممالک نے جلد از جلد براہ راست پروازوں کے آغاز اور ایئر سروسز معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ سیاحت، کاروبار، میڈیا اور دیگر شعبوں کے لیے ویزہ سہولت میں بہتری پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی۔

ایس سی او اجلاس اور اہم ملاقاتیں

تیانجن کے میجیانگ کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں آج شام ایس سی او اجلاس کا آغاز ہوگا، جس میں استقبالیہ تقریب اور میوزیکل کنسرٹ بھی شامل ہوگا۔ ایس سی او میں بھارت سمیت 10 رکن ممالک ہیں، جن میں بیلاروس، چین، ایران، قازقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2027: ایک ہی گروپ میں بھارت اور پاکستان، 10 اکتوبر کو ہوگا بڑا مقابلہ

ٹورنامنٹ کا آغاز 2 اکتوبر کو سپر سیریز سے ہوگا، جس میں کوالیفائر کی تین…

40 minutes ago

Adani Foundation Story: مشرقی اترپردیش میں سماجی تبدیلی کی نئی عبارت لکھ رہا ہے اڈانی فاؤنڈیشن

ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…

3 hours ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

6 hours ago