قومی

India-Indonesia Bond: رامائن، مہابھارت اور مشترکہ تہذیبی ورثہ بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات کی بنیاد ہیں: وزیراعظم مودی

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت اور انڈونیشیا کے تعلقات صرف جغرافیائی قربت تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، تہذیب اور ثقافتی ورثے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رامائن، مہابھارت، نالندہ کی علمی روایت، وائیانگ، بوروبودور، پرمبانن اور گروڑ جیسے مشترکہ ثقافتی ورثے دونوں ممالک کے رشتوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا صرف سمندر ہی نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد رامائن اور مہابھارت کی عظیم روایات، نالندہ کی قدیم علمی دانش اور صدیوں پر محیط تہذیبی روابط پر استوار ہے۔

سمندر فاصلے نہیں، رابطے کا ذریعہ ہے

وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک وائیانگ (روایتی انڈونیشیائی پتلی تماشہ)، رقص، موسیقی، بوروبودور اور پرمبانن جیسے عظیم تاریخی آثار کے ذریعے بھی ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کے قومی نشان گروڑ اور بالی یاترا جیسے تہوار بھی دونوں ملکوں کے قدیم ثقافتی اور سمندری تعلقات کی یاد دلاتے ہیں۔ خطاب کے دوران ہلکے پھلکے انداز میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ بھارت کا پاپڑ زیادہ خستہ ہے یا انڈونیشیا کا کروپک، تاہم ایک بات یقینی ہے کہ دونوں ممالک کی زندگی میں مصالحوں اور روایتی ذائقوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت، انڈونیشیا اور بحر ہند کے نام خود دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں برس سے دونوں ممالک کی بندرگاہیں تجارت، تہذیب اور ثقافت کے تبادلے کا ذریعہ رہی ہیں اور یہی سمندری روابط مستقبل میں بھی مشترکہ ترقی کی نئی راہیں ہموار کریں گے۔

اگلے 25 سال دونوں ممالک کے لیے فیصلہ کن

وزیراعظم نے کہا کہ اکیسویں صدی کا پہلا ربع مکمل ہو چکا ہے اور آئندہ 25 برس بھارت اور انڈونیشیا دونوں کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی اعتماد، خیرسگالی اور تعاون کے ذریعے نہ صرف اپنے عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گے بلکہ پوری انسانیت کی خدمت میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ نریندر مودی نے کہا کہ بھارت توسیع پسندی نہیں بلکہ ترقی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ نئی دہلی اور جکارتہ کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ ہے، لیکن دونوں ممالک کو جدا کرنے والا سمندر درحقیقت انہیں جوڑنے والا ایک مضبوط پل ہے، جو مستقبل میں بھی ان کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

56 minutes ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

2 hours ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

2 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

3 hours ago