بھارت نے انڈونیشیا کی غذائی سلامتی کو مستحکم بنانے کے لیے اعلیٰ معیار کے 100 ٹن ’’ڈی ڈبلیو آر-162‘‘ (DWR-162) گندم کے بیج فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جکارتہ میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دونوں ممالک نے زرعی تعاون، غذائی تحفظ اور پائیدار زرعی نظام کو فروغ دینے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارتی حکومت خصوصی طور پر تیار کردہ اعلیٰ معیار کی گندم انڈونیشیا کو فراہم کرے گی تاکہ وہاں کے غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مڈ ڈے میل اسکیم اور عوامی تقسیم کے نظام (پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم) سے متعلق اپنے تجربات اور کامیاب ماڈلز کا بھی تبادلہ کیا ہے، جس سے باہمی تعاون کو نئی وسعت ملے گی۔
پائیدار زراعت اور زرعی ٹیکنالوجی پر زور
وزیراعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور انڈونیشیا پائیدار زراعت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک دوسرے کے بہترین تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے اور دونوں ممالک کے نوجوان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں۔ انڈونیشیا کا موسم گرم اور مرطوب ہونے کی وجہ سے وہاں گندم کی کاشت نہیں ہوتی، جس کے باعث یہ ملک اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور دنیا کے بڑے گندم درآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔ بھارت اور انڈونیشیا نے زراعت اور متعلقہ شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بھی دستخط کیے ہیں، جس کے تحت جدید زرعی طریقوں، تحقیق اور پائیدار زرعی نظام کی ترقی پر مشترکہ کام کیا جائے گا۔
طویل مدتی زرعی شراکت داری کی بنیاد
انڈونیشیا میں بھارت کے سفیر سندیپ چکروورتی نے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں غذائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے طویل مدتی تعاون کا مضبوط فریم ورک تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے 100 ٹن اعلیٰ معیار کے ’’ڈی ڈبلیو آر-162‘‘ گندم کے بیج کی فراہمی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد مضبوط، پائیدار اور محفوظ زرعی نظام کی تشکیل ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ انڈونیشیا کے دوران دونوں ممالک نے دفاع، خلائی تحقیق، صحت، زراعت، ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور اقتصادی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں 20 اہم فیصلوں اور معاہدوں کا اعلان کیا، جن میں 14 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط اور 6 بڑے اعلانات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت اور انڈونیشیا نے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بدھ کو گوہاٹی میں جاری مقابلے میں مہمان ویسٹ انڈیز نے ٹاس ہارنے کے بعد…
فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے CAQM نے نفاذی نظام کا جائزہ لیا، بغیر…
ایکسس بینک کے ویزا اور ماسٹر کارڈ کریڈٹ کارڈز سے شروعات. ماہرین کے مطابق ایپل…
وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ہوئی بات چیت کے بارے میں سوشل…
بیان کے مطابق پلانٹ کی تعمیر پر مجموعی طور پر 16.80 کروڑ روپے خرچ ہوئے…
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی کابینہ کا بڑا فیصلہ، گندم، جو، چنا…