قومی

PM Modi Gift Diplomacy: صرف سیاسی ملاقاتیں نہیں، وزیر اعظم مودی کے ہر تحفے کے پیچھے چھپی ہوتی ہے ایک خاص حکمت عملی، جانئے کیا ہے پوری کہانی؟

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر ملکی دورے ہمیشہ سفارتی اور سیاسی اہمیت کے باعث خبروں میں رہتے ہیں، لیکن گزشتہ چند برسوں میں ان کی ایک اور خاص پہچان بھی عالمی سطح پر نمایاں ہوئی ہے، جسے ”گفٹ ڈپلومیسی“ یا تحفوں کے ذریعے سفارتی تعلقات مضبوط بنانے کی حکمت عملی کہا جاتا ہے۔ وزیر اعظم مودی مختلف ممالک کے سربراہان کو ایسے تحائف پیش کرتے ہیں جو نہ صرف بھارت کی تہذیب، ثقافت اور روحانی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک گہرا سفارتی پیغام بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں اٹلی کے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو بھارت کی مشہور ”میلوڈی“ ٹافی بطور تحفہ پیش کی، جس کے بعد سوشل میڈیا اور بین الاقوامی حلقوں میں اس تحفے کا خوب چرچا ہوا۔ اگرچہ یہ ایک سادہ تحفہ دکھائی دیتا ہے، لیکن مبصرین کے مطابق اس کے ذریعے بھارتی عوامی ثقافت اور جذباتی وابستگی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم وزیر اعظم مودی کی گفٹ ڈپلومیسی صرف روایتی تحائف تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں بھارت کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو بھی نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم تحفہ بھگود گیتا یعنی شریمَد بھگود گیتا کی کتاب رہی ہے، جسے وزیر اعظم مختلف مواقع پر عالمی رہنماؤں کو پیش کرتے آئے ہیں۔ خاص بات یہ رہی کہ وہ گیتا ہمیشہ متعلقہ ملک کی زبان میں ترجمہ شدہ شکل میں بطور تحفہ دیتے ہیں، جسے ثقافتی سفارت کاری کی ایک منفرد مثال قرار دیا جاتا ہے۔

سنہ 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے پہلے امریکی دورے کے موقع پر نریندر مودی بھگود گیتا کی ایک خصوصی جلد اپنے ساتھ لے گئے تھے، جسے انہوں نے اُس وقت کے امریکی صدر براک اوباما کو پیش کیا تھا۔ یہ تحفہ وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک عشائیے کے دوران دیا گیا اور بتایا جاتا ہے کہ یہ گیتا مہاتما گاندھی سے منسوب تحریروں پر مشتمل تھی۔ اسی طرح 2014 میں جاپان کے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی جاپانی شہنشاہ اکی ہیتو اور اُس وقت کے وزیر اعظم شنزو ایبے کے لیے جاپانی زبان میں ترجمہ شدہ گیتا لے کر گئے تھے۔ اس اقدام کو بھارت اور جاپان کے ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا۔

دسمبر 2025 میں جب روسی صدر ولادیمیر پوتن بھارت آئے تو وزیر اعظم مودی نے انہیں روسی زبان میں لکھی گئی گیتا کی ایک جلد بطور تحفہ دی۔ اس موقع پر مودی نے کہا تھا کہ گیتا کی تعلیمات دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو متاثر اور رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ وزیر اعظم مودی کئی عالمی فورمز پر گیتا کے پیغام اور اس کے فلسفے کا ذکر بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ گیتا صرف روحانی کتاب نہیں بلکہ زندگی، قیادت اور قومی پالیسیوں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ایک تقریب میں انہوں نے کہا تھا کہ گیتا یہ سکھاتی ہے کہ امن اور سچائی کے تحفظ کے لیے ناانصافی کی طاقتوں کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، اور یہی اصول قومی سلامتی کے نظریے کی بنیاد بنتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

4 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

4 hours ago