قومی

PM Modi thanks French PM: ایمانوئل میکرون نے پی ایم مودی کو پیارے دوست کہہ کر کیا مخاطب، بھارت-فرانس اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو ملی نئی سمت

نئی دہلی :سیاست اورسفارتکاری کی دنیا میں جہاں عموماً رسمی اور سنجیدہ الفاظ سننے کو ملتے ہیں، وہیں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اورفرانس کے صدرایمانوئل میکرون کے درمیان گرمجوشی اورذاتی تعلق کا ایک مختلف اندازدیکھنے کو ملا۔ حالیہ سوشل میڈیا تبادلۂ خیال نے دونوں رہنماؤں کے مضبوط تعلقات کی جھلک پیش کی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بھارت روانہ ہونے کے اعلان پر وزیر اعظم مودی نے خصوصی انداز میں خیرمقدم کرتے ہوئے لکھا، ’’بھارت میں آپ کا استقبال ہے! بھارت آپ کے دورے کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے
اور ہمارے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔‘‘

اپنے پیغام میں وزیر اعظم  مودی نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں لیڈروں کے درمیان ہونے والی بات چیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرے گی اورعالمی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے لکھا، ’’ممبئی میں اور بعد میں دہلی میں ملاقات ہوگی، میرے پیارے دوست!‘‘ اس پیغام نے دونوں ممالک کے درمیان قریبی اسٹریٹجک شراکت داری کو واضح کیا۔اس سے قبل صدرمیکرون نے بھی بھارت کے لیے روانگی سے پہلے ایک پُراثر پیغام جاری کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ممبئی سے نئی دہلی تک تین روزہ دورے پر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس وفد میں صرف سفارتی نمائندے ہی نہیں بلکہ فرانس کے بڑے کاروباری لیڈر اور ڈیجیٹل شعبے کے سرکردہ ماہرین بھی شامل ہیں۔ میکرون نے وزیر اعظم مودی کو ’’پیارے دوست‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک مل کر بھارت-فرانس اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو نئی سمت دیں گے۔

یہ دورہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ’انڈیا-فرانس ایئر آف انوویشن 2026‘ کے آغاز کے تناظر میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ دفاع، خلائی تحقیق اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں ممکنہ بڑے معاہدوں پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔ حال ہی میں بھارت کی جانب سے 114 رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کی خبروں نے بھی اس دورے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ صدر میکرون کے دورے کا آغاز ممبئی سے ہو رہا ہے، جہاں پہلی بار کوئی فرانسیسی صدر دوطرفہ سربراہی اجلاس میں شرکت کرے گا۔ اس کے بعد نئی دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ میں دونوں رہنماؤں کی مشترکہ موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت اور فرانس مستقبل کے ’’ڈیجیٹل ورلڈ آرڈر‘‘ میں کلیدی کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

بھارت ایکپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

52 minutes ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

2 hours ago

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

11 hours ago