نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں آبی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق آبی انتظام کو فروغ دینے کے مقصد سے مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی آر پاٹل کی جانب سے لکھا گیا ایک اہم مضمون شیئر کیا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے پانی کو محفوظ رکھنا صرف انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ مضبوط نظام، سائنسی حل اور عوامی شراکت داری سے جڑی ایک بڑی ’مشترکہ ذمہ داری‘ ہے۔
جل جیون مشن اور نمامی گنگا کی کوششیں
وزیر اعظم کے دفتر (PMO) کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیے گئے مضمون کے مطابق مرکزی وزیر سی آر پاٹل نے اپنے مضمون میں بھارت کو آبی تحفظ کی جانب لے جانے کے لیے کیے جارہے مختلف اقدامات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
ان میں خاص طور پر درج ذیل اقدامات شامل ہیں: جل جیون مشن:
گھر گھر صاف پینے کا پانی پہنچانے کا یہ مشن دیہی بھارت میں آبی سہولیات کی صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔
نمامی گنگا پہل: گنگا اور اس کی معاون ندیوں کے تحفظ اور احیا کے لیے سائنسی طریقوں اور عوامی تعاون پر مبنی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
ٹیکنالوجی پر مبنی حل: پانی کے ہر قطرے کے مؤثر استعمال اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا گیا ہے۔
Water security is a shared responsibility that calls for stronger systems, scientific solutions and Jan Bhagidari. Union Minister Shri @CRPaatil writes on India’s efforts to build climate-resilient water management through the Jal Jeevan Mission, Namami Gange, water conservation and technology-driven solutions.
An insightful perspective on how people’s participation, alongside sustained efforts across States and communities, can help secure water for future generations in a sustainable way.
— PMO India (@PMOIndia) September 22, 2026
عوامی شراکت داری سے ہی پائیدار حل ممکن
وزیر اعظم مودی نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ یہ مضمون اس حوالے سے ایک اہم نقطۂ نظر پیش کرتا ہے کہ کس طرح ریاستوں، مقامی برادریوں اور عام شہریوں کی فعال شراکت داری مستقبل کے آبی چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جب تک معاشرے کا ہر طبقہ آبی تحفظ کو اپنی اخلاقی ذمہ داری نہیں سمجھے گا، اس وقت تک پائیدار آبی تحفظ کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ حکومتی منصوبے اسی وقت مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب وہ عوامی تحریک کی شکل اختیار کریں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارت اسی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جہاں حکومتی کوششوں کے ساتھ عوامی شراکت داری کو بھی آبی تحفظ کا اہم ذریعہ بنایا جارہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بہار قانون ساز کونسل کی 4 گریجویٹ اور 4 ٹیچر حلقوں سمیت کل 8 نشستوں…
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سید احمد خاں نے کہا کہ…
اس حساب سے اگر تقریباً 5 سیکنڈ کی اے آئی ویڈیو تیار کی جائے تو…
تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…