نئی دہلی: نریندر مودی نے ٹو لام کو ویتنام کا صدر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ٹو لام کی قیادت میں بھارت اور ویتنام کے درمیان دیرینہ دوستی مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے عوام اور خطے کی ترقی و خوشحالی کے لیے باہمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
نیشنل اسمبلی کا متفقہ فیصلہ
ویتنام کی نیشنل اسمبلی نے ٹو لام کو 2026 سے 2031 تک کے دور کے لیے صدر منتخب کیا۔ اس فیصلے سے قبل کمیونسٹ پارٹی آف ویتنام کی مرکزی کمیٹی نے ان کے نام کی منظوری دی تھی۔ اسمبلی کے تمام 495 اراکین نے ان کے حق میں ووٹ دیا۔ ٹو لام اس سے پہلے مئی 2024 سے اکتوبر 2024 تک بھی ویتنام کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہیں 2024 میں پارٹی کی مرکزی قیادت میں اہم عہدہ دیا گیا تھا اور جنوری 2026 میں دوبارہ اسی ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا۔
بھارت-ویتنام تعلقات کی تاریخ
بھارت اور ویتنام کے درمیان قریبی تعلقات ہیں جنہیں ’’جامع اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ درجہ 2016 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ویتنام دورے کے دوران دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2020 میں ایک ورچوئل سربراہی اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے ’’امن، خوشحالی اور عوامی مفاد‘‘ پر مبنی مشترکہ وژن اپنایا، جس میں اس وقت کے ویتنامی وزیراعظم نگوین ژوان فک بھی شریک تھے۔ ٹو لام کے صدر بننے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بھارت اور ویتنام کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
زمبابوے کی جانب سے گیند بازی میں بریڈ ایونز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں…
شیخ محمد بن زاید النہیان نے وزیر اعظم مودی کو سالگرہ کی مبارکباد دی، توانائی،…
روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…
ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…