قومی

Women’s Reservation: وزیراعظم مودی کی خواتین ریزرویشن بل پر تمام سیاسی جماعتوں سے اتفاق رائے قائم کرنے کی اپیل

وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ایک بڑی این ڈی اے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کو اپنی حکومت کی ترجیح قرار دیا اور خواتین ریزرویشن بل پر تمام سیاسی جماعتوں سے اتفاق رائے قائم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا یہ منصوبہ 2029 کے لوک سبھا انتخابات تک نافذ کر دیا جائے گا۔  وزیراعظم نے کہا کہ مجوزہ بل پر پارلیمنٹ میں 16 سے 18 اپریل کے درمیان بحث متوقع ہے اور اس حوالے سے تمام جماعتوں کو تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اس اہم معاملے پر سیاست سے اوپر اٹھ کر خواتین کے حقوق کے لیے متحد ہو جائیں۔

حلقہ بندی سے متعلق خدشات مسترد

نریندر مودی نے حلقہ بندی (ڈیلِمیٹیشن) سے متعلق خدشات کو بھی مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کیرالم اور تمل ناڈو کی کسی بھی لوک سبھا نشست میں کمی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ان خدشات کو افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام میں غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ وہ کوچی پہنچے اور وہاں سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے تریوَلا آئے، جہاں راستے میں عوام کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی باقاعدہ روڈ شو کے بھی سڑکوں کے کنارے انسانی زنجیر جیسا منظر دیکھنے کو ملا، جو عوامی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود پر حکومتی اقدامات

مودی نے اپنی حکومت کی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی فلاح و بہبود کو مرکز میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے رہائش، پینے کے پانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ نوعمر لڑکیوں کے لیے مفت کینسر ویکسین پروگرام شروع کرنے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر این ڈی اے کی ’’ڈبل انجن‘‘ حکومت کیرالہ میں قائم ہوتی ہے تو ترقیاتی کاموں میں مزید تیزی آئے گی اور مرکزی و ریاستی سطح پر ہم آہنگی سے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ وزیر اعظم نے ریاست کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے ایل ڈی ایف اور یوڈی ایف پر الزام لگایا کہ انہوں نے باری باری اقتدار میں رہ کر بھی ریاست کو مضبوط ترقی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت اور بلیو اکانومی جیسے شعبوں میں بے پناہ امکانات کے باوجود کیرالہ پیچھے رہ گیا ہے۔

ترقیاتی دعوے اور زرعی امداد

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے کیرالہ کو ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ مالی مدد فراہم کی ہے۔ خاص طور پر کسانوں، بالخصوص ربڑ کے کاشتکاروں کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے کی امداد کا ذکر بھی کیا گیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم مودی نے کہا کہ بدعنوانی، فرقہ واریت اور نوجوانوں کی ہجرت جیسے مسائل ریاست کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ روایتی سیاسی جماعتوں کے بجائے این ڈی اے کو موقع دیں تاکہ جامع ترقی اور خواتین کی قیادت کو فروغ دیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Adani Foundation Story: مشرقی اترپردیش میں سماجی تبدیلی کی نئی عبارت لکھ رہا ہے اڈانی فاؤنڈیشن

ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…

2 hours ago

The Signature Award 2026: نودیپ سنگھ کو سپلائر ڈیولپمنٹ میں نمایاں خدمات کے لیے ’دی سگنیچر ایوارڈ 2026‘ سے نوازا گیا

نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…

5 hours ago