یروشلم: وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ’’ویلجز آف ایکسیلینس‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس بیان میں کیا۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ زرعی تعاون دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کا ایک کامیاب ستون رہا ہے اور اب اسے مستقبل کی ضروریات کے مطابق نئی سمت دی جائے گی۔
زرعی تعاون کو مستقبل کی سمت دینے کا عزم
وزیراعظم نے کہا: ’’بھارت اور اسرائیل کے درمیان زرعی تعاون کی ایک طویل اور کامیاب تاریخ رہی ہے۔ آج ہم نے اس تعاون کو مستقبل کی سمت دینے کا عزم کیا ہے۔ اسرائیل کے تعاون سے بھارت میں قائم سینٹرز آف ایکسی لینس ہماری دوستی کی بہترین مثال ہیں۔ ان کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ہم نے ان کی تعداد بڑھا کر 100 کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ’’ویلجز آف ایکسی لینس‘‘ کے قیام سے اسرائیلی زرعی ٹیکنالوجی کو دیہی سطح تک پہنچایا جائے گا، جس سے لاکھوں کسانوں کی آمدنی اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ’’انڈیا۔اسرائیل انوویشن سینٹر برائے زراعت‘‘ کے قیام سے اس تعاون کو مضبوط بنیاد فراہم ہوگی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ زرعی حل تیار کیے جائیں گے۔
سینٹرز آف ایکسیلینس کیا ہیں؟
انڈو۔اسرائیل سینٹرز آف ایکسیلینس جدید زرعی مراکز ہیں جو مقامی حالات کے مطابق اسرائیلی زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز میں جدید نرسری مینجمنٹ، بہتر کاشتکاری طریقے، مؤثر آبپاشی اور کھاد کے جدید نظام شامل ہیں، تاکہ ترجیحی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو بھی دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے 2023 میں طے پانے والے بھارت۔اسرائیل افرادی قوت نقل و حرکت معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی کارکنوں نے اسرائیل کے تعمیراتی اور نگہداشت کے شعبوں میں اپنی محنت اور مہارت سے اعتماد حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس تعاون کو تجارت اور خدمات کے شعبوں تک بھی وسعت دی جا رہی ہے۔
تعلیمی و اختراعی تعاون کو فروغ
نوجوانوں اور اختراع کاروں کو جوڑنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ’’انڈیا۔اسرائیل اکیڈمک فورم‘‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا، جس کے ذریعے طلبہ، محققین اور جدت کاروں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔ یہ دورہ وزیراعظم نریندر مودی کا بطور وزیراعظم اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ 2017 میں اپنے پہلے تاریخی دورے پر اسرائیل گئے تھے۔ یوں زرعی، تعلیمی، اختراعی اور افرادی تعاون کے میدان میں کیے گئے یہ اعلانات بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو مزید گہرا اور ہمہ جہت بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
چنئی سپر کنگز کی جانب سے جاری بیان میں ظہیر خان نے کہا، ’’آئی پی…
اکھلیش یادو کی موجودگی میں لیڈروں کے درمیان تلخ کلامی اور گالی گلوچ، دونوں اضلاع…
دہلی میں سال 2020 کے فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں ملزم عمر خالد…
نابالغ لڑکے اور لڑکی سے مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر سیاست گرم، جے ڈی یو…
10 میٹر ایئر رائفل ٹیم مقابلے میں پارتھ مانے، ہمانشو ڈھلون اور رودرانکش پاٹل کی…
سوریا کمار یادو نے نوجوان بلے باز ویبھَو سوریہ ونشی کی تعریف کی، کہا- ان…