نئی دہلی: وزیراعظم نریندرمودی نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی بھارت اور آسیان (ASEAN) کی صدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیان ممالک بھارت کی ’’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘‘ کا مضبوط ستون ہیں۔ وزیراعظم مودی نے یہ بات اتوار کو کوالالمپور(ملیشیا) میں منعقدہ 22ویں آسیان-انڈیا سمٹ سے ورچوئل خطاب کے دوران کہی۔
بھارت اور آسیان: مشترکہ تہذیبی اور تاریخی رشتے
وزیراعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا، ’’اکیسویں صدی ہماری صدی ہے— بھارت اور آسیان کی صدی۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ بھارت اور آسیان کے درمیان تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی بندھن نہایت گہرے ہیں۔ مودی نے ملیشیا اور وزیراعظم انور ابراہیم کو 47ویں آسیان سمٹ کی کامیاب میزبانی پر مبارکباد دی اور فلپائن کی ستائش کی جو اس وقت بھارت کے لیے کنٹری کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ وزیراعظم نے ایسٹ تیمور کو آسیان کا 11واں رکن ملک بننے پر خیرمقدم کیا اور تھائی لینڈ کی ملکہ والدہ سریکت کے انتقال پر تعزیت پیش کی۔
ایک چوتھائی عالمی آبادی کی نمائندگی
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور آسیان ممالک مل کر دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم صرف جغرافیہ سے نہیں بلکہ مضبوط تاریخی تعلقات اور مشترکہ اقدار سے بھی جڑے ہیں۔‘‘ مودی نے زور دیا کہ بھارت اور آسیان ’گلوبل ساؤتھ‘ کے ہم سفر ہیں جو استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے باہمی تعاون کر رہے ہیں۔
غیر یقینی ماحول میں مستحکم شراکت داری
وزیراعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود بھارت-آسیان جامع تزویراتی شراکت (Comprehensive Strategic Partnership) نے مسلسل ترقی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری آج عالمی استحکام اور ترقی کی ایک اہم بنیاد کے طور پر ابھر رہی ہے۔
انڈو-پیسیفک میں امن و استحکام کیلئے اشتراک ضروری
مودی نے اپنے چھ منٹ کے خطاب میں آسیان کی مرکزیت اور انڈو-پیسیفک خطے پر آسیان کے وژن کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں خطوں کے درمیان تعاون ایشیا میں امن و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ ’’آسیان صرف ہماری خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کے ’ایکٹ ایسٹ ویژن‘ کی بنیاد ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال انڈو-پیسیفک خطے کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے۔
بھارت کی نمائندگی ایس جے شنکر کریں گے
وزیر خارجہ ایس جے شنکر 27 اکتوبر کو کوالالمپور میں منعقد ہونے والی 20ویں ایسٹ ایشیا سمٹ میں وزیراعظم مودی کی نمائندگی کریں گے۔ یہ اجلاس انڈو-پیسیفک میں امن و استحکام کے مسائل پر غور و خوض اور علاقائی و عالمی پیش رفتوں پر تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرے گا۔
بھارت اور آسیان تعلقات کی تاریخی بنیادیں
مودی 2014 سے تمام آسیان-انڈیا سمٹ میں شرکت کر چکے ہیں، سوائے 2022 کے۔ جنوری 2018 میں 25ویں سالگرہ کے موقع پر، آسیان کے تمام 10 رکن ممالک کے رہنما بھارت کی یوم جمہوریہ پریڈ میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے گفتگو کے بعد ایکس پر لکھا تھا: ’’اپنے عزیز دوست انور ابراہیم سے خوشگوار گفتگو ہوئی۔ انہیں آسیان چیئرمین شپ پر مبارکباد دی اور آئندہ اجلاسوں کے لیے نیک تمنائیں دیں۔‘‘
آسیان: تاریخی پس منظر اور بھارت کے تعلقات
آسیان (Association of Southeast Asian Nations) کا قیام 8 اگست 1967 کو بینکاک (تھائی لینڈ) میں عمل میں آیا۔ بنیادی ارکان میں انڈونیشیا، ملیشیا، فلپائن، سنگاپور اور تھائی لینڈ شامل تھے۔ اب اس تنظیم میں برونائی، کمبوڈیا، لاؤس، میانمار، ویتنام اور حالیہ تیمور-لیستے بھی شامل ہو گئے ہیں۔ آسیان چارٹر نے 2008 میں اس تنظیم کو قانونی حیثیت اور ادارہ جاتی فریم ورک فراہم کیا، جبکہ آسیان سیکریٹریٹ 1976 میں جکارتہ میں قائم ہوا۔ ملیشیا اس سال (2025) کا آسیان چیئر ملک ہے، جب کہ 2026 میں یہ ذمہ داری فلپائن کو منتقل ہوگی۔ بھارت نے آسیان کے ساتھ باضابطہ تعلقات 1992 میں ایک Sectoral Dialogue Partner کی حیثیت سے شروع کیے، جو بعد میں 1995 میں Dialogue Partner اور 2002 میں Summit Level Partner میں تبدیل ہوئے۔ 2012 میں تعلقات کی 20ویں سالگرہ پر انہیں Strategic Partnership تک بڑھایا گیا اور 2018 میں 25ویں سالگرہ پر توجہ بحری تعاون (Maritime Cooperation) پر مرکوز کی گئی۔ 2022 میں 30ویں سالگرہ کے موقع پر تعلقات کو مزید بلند کر کے Comprehensive Strategic Partnership کا درجہ دیا گیا، جس کے تحت ایک مشترکہ اعلامیہ بھی منظور کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسے میں 19 سالہ کارتک نے شکایت کرنے کے بجائے خود کچھ کرنے کا فیصلہ…
راگھو چڈھا نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن…
آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…
28 سے 30 ستمبر تک ہونے والی ہڑتال پانچ روزہ بینکنگ ہفتے سمیت کئی مطالبات…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…
بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…