نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز کیرالہ میں واقع آریہ ویدیہ شالہ چیریٹیبل اسپتال کے صد سالہ جشن میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آیوروید کو محفوظ رکھنے، اس کے تحفظ اور اسے آگے بڑھانے میں آریہ ویدیہ شالہ کا نہایت اہم اور قابلِ قدر کردار رہا ہے۔ وزیر اعظم نے آریہ ویدیہ شالہ کے بانی ویدیہ رتنم پی ایس وریئر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آیوروید کے تئیں ان کا وژن اور عوامی فلاح کے لیے ان کی وابستگی آج بھی ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کی آریہ ویدیہ شالہ بھارت کی اس قدیم علاجی روایت کی جیتی جاگتی علامت ہے، جس نے صدیوں سے انسانیت کی خدمت کی ہے۔
آیوروید: ایک عہد یا خطے تک محدود نہیں
وزیراعظم مودی نے کہا کہ آیوروید کبھی کسی ایک دور یا کسی مخصوص خطے تک محدود نہیں رہا۔ ہر زمانے میں اس قدیم طبی نظام نے زندگی کو سمجھنے، توازن قائم کرنے اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کا راستہ دکھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج آریہ ویدیہ شالہ 600 سے زائد آیورویدک ادویات تیار کر رہی ہے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں اس کے اسپتال آیورویدک طریقے سے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں، جن سے دنیا کے 60 سے زیادہ ممالک کے مریض فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
سو برس کی خدمت اور عوام کا اعتماد
وزیر اعظم نے کہا کہ آریہ ویدیہ شالہ نے اپنی خدمات کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ جب لوگ تکلیف میں ہوتے ہیں تو یہ ادارہ ان کے لیے ایک بڑی امید بن کر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آریہ ویدیہ شالہ کے لیے خدمت محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، جو اس کے کام، سوچ اور پورے ادارے میں جھلکتا ہے۔ چیریٹیبل اسپتال گزشتہ 100 برسوں سے مسلسل عوام کی خدمت میں مصروف ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ویدیہوں، ڈاکٹروں، نرسنگ اسٹاف اور دیگر تمام عملے کی ستائش کی۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے حکومت کی مختلف پہلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے تک بھارت میں قدیم طبی نظاموں کو الگ الگ خانوں میں دیکھا جاتا رہا، لیکن گزشتہ 10 سے 11 برسوں میں اس سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صحت کو ایک جامع نقطۂ نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور آیوروید، یونانی، ہومیوپیتھی، سدھ اور یوگ کو ایک چھتری کے نیچے لایا گیا ہے، جس کے لیے آیوش کی وزارت قائم کی گئی۔ نیشنل آیوش مشن کے تحت 12 ہزار سے زائد آیوش ویلنیس سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔
آیوش سیکٹر، سرکاری اقدامات اور عالمی سطح پر فروغ
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ سرکاری پالیسیوں کا واضح اثر آیوش سیکٹر پر دکھائی دے رہا ہے۔ آیوش مینوفیکچرنگ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور بھارتی روایتی ویلنیس کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے آیوش ایکسپورٹ پروموشن کونسل قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 میں بھارت سے تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کے آیوش اور جڑی بوٹیوں پر مبنی مصنوعات برآمد ہوتی تھیں، جو اب بڑھ کر 6500 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ ملک کے کسانوں کو بھی ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ آیوروید کے فروغ کے لیے ایویڈینس بیسڈ ریسرچ، سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ اس قدیم طبی نظام پر لوگوں کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے بین الاقوامی دوستانہ میچ میں برازیل نے…
وزیر اعظم کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پی ایم مودی کے…
امت شاہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 31 دسمبر 2029 تک مدھیہ پردیش…
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھارت اور برازیل کے درمیان مقابلے…
ہفتہ کy کے روز بھارت کی مردوں کی ہاکی ٹیم نے ککامی گاہارا کے گیفو…
اسپتال سے پہلی بار کیپٹن اسمت مچھار کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ تصاویر میں…