قومی

Piyush Goyal to Visit Canada: تقریباً 150 صنعت کاروں کے ساتھ کینیڈا دورے پر جائیں گے پیوش گوئل، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر رہے گا فوکس

بھارت اور کینیڈا آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک پریس بریفنگ کے دوران پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت کو امید ہے کہ کینیڈا کے ساتھ توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) جیسے شعبوں کو شامل کرتے ہوئے آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) طے پائے گا۔ بات چیت میں ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ، صاف توانائی اور کریٹیکل منرلز میں تعاون پر بھی زور دیا جائے گا۔

بھارت میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

وزیر کے مطابق کینیڈین پنشن فنڈز اور کمپنیاں بھارت میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 600 کینیڈین کمپنیاں بھارت میں کام کر رہی ہیں اور دونوں ممالک اس تعداد کو بڑھا کر ایک ہزار تک لے جانا چاہتے ہیں۔ زراعت، توانائی، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے مضبوط تعلقات قائم ہیں اور جامع تجارتی معاہدے پر بات چیت دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ پیوش گوئل 25 مئی کو اوٹاوا جبکہ 26 اور 27 مئی کو ٹورنٹو میں بھارتی صنعت کاروں کے وفد کے ساتھ مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے۔

کیا ہے دورے کا مقصد؟

یہ دورہ مارچ 2026 میں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے دورۂ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان طے شدہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ اس کا ہدف تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کو نئی رفتار دینا ہے۔اس دورے کا اہم فوکس بھارت-کینیڈا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (CEPA) کی بات چیت کو آگے بڑھانا ہوگا۔ مارچ 2026 میں وزیر اعظم مارک کارنی کے دورۂ بھارت کے دوران اس معاہدے کے لیے “ٹرمز آف ریفرنس” پر دستخط کیے گئے تھے۔ مذاکرات کا پہلا دور مارچ میں ورچوئل طریقے سے ہوا تھا، جبکہ دوسرا دور 8 مئی کو مکمل ہوا۔اس دورے کے دوران 25 سے 29 مئی تک اوٹاوا میں مذاکرات کا اگلا مرحلہ منعقد ہوگا۔ دونوں ممالک 2026 کے اختتام تک ایک متوازن اور باہمی فائدہ مند CEPA معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 70 ارب کینیڈین ڈالر (تقریباً 4.65 لاکھ کروڑ روپے) تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت مالی سال 2025 میں 8.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس میں کئی شعبوں میں توسیع کے وسیع امکانات موجود ہیں۔اس دوران پیوش گوئل نے ہفتہ کے روز کہا کہ کھادوں کی بڑھی ہوئی قیمتوں کا بوجھ کسانوں پر نہیں ڈالا گیا بلکہ اس کا پورا خرچ مرکزی حکومت نے برداشت کیا ہے۔انہوں نے کہا،’’ہر شعبے میں بھارت نے دنیا کو دکھایا ہے کہ وہ ایک خوداعتماد معیشت ہے، جو خود انحصاری کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور دنیا کے ساتھ مساوی اور منصفانہ شرائط پر تعلقات قائم کر رہی ہے۔‘‘پیوش گوئل نے مزید کہا کہ یہ بات بھارت کی جانب سے کیے گئے نو آزاد تجارتی معاہدوں (FTA) اور وزیر اعظم نریندر مودی کے پانچ ممالک کے کامیاب دوروں سے بھی واضح ہوتی ہے، جن کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں مثبت پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Banks to remain open on Sunday: تین دن کی  بینک ہڑتال سے پہلے ضروری کام نمٹا لیں یوزر، 28 ستمبر سے کئی خدمات متاثر ہونے کا امکان

یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…

3 minutes ago

Kedarnath Dham: کیدارناتھ میں صرف 5 ماہ میں 50 ٹن سے زیادہ کچرا جمع، پچھلے پورے سیزن سے ڈھائی گنا زیادہ

اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…

30 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

4 hours ago